80

سابق سینئیر وزیر پنجاب ارشد خان لودھی صاحب طویل علالت کے بعد قضاےالہی سےوفات پا گے ہیں.

Spread the love
  • 10
    Shares

خان ارشد خان لودھی کا سیاسی سفر… ایک باب کا اختتامسابق صوبائی وزیر خان محمد ارشد خان لودھی طویل علالت کے بعد قضائے الٰہی سے لاھور میں انتقال کر گئے ہیں ۔ ان کے کیرئیر پر ایک مختصر نظر۔

خان محمد ارشد خان لودھی ولد ارشاد حسین خان لودھی اکتوبر 1937 کو جالندھر ،انڈیا میں پیدا ہوئے۔آپ نے 1959 میں گورنمنٹ کالج لاہور سے گریجوایشن کی اور1966میں کراچی یونیورسٹی کراچی سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔آپ پیشے کے لحاظ سے ایک وکیل اور زمیندار تھے اور 1968میں یونین کونسل ہڑپہ کے چئیر مین اور چیئرمین مرکز کونسل پنجاب رہے ۔ 1983کے دوران رکن ڈسٹرکٹ کونسل ساہیوال رہے۔2003-07 کے دوران چیئرمین کرائم کنٹرول کمیٹی اور چیئرمین پرائس کنٹرول کمیٹی نیز جنرل سیکرٹری پاکستان فٹ بال فیڈریشن رہے اور 2011 سےاس تنظیم کے سینئر نائب صدر کے طور پر خدمات سر انجام دیں۔خان محمد ارشد خان لودھی ایک منجھے ہوئے سیاستدان تھے جو 1972، 1985، 1988، 1990، 1997 ، 2002 اور 2013 میں ساہیوال سے رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے۔پارلیمانی سیکرٹری کے ساتھ ساتھ آپ کے پاس وازارتوں کے مختلف پورٹ فولیو بشمول کالونیز ، ریونیو، ریلیف، انڈسٹریز، منرل ڈویلپمنٹ ، ٹرانسپورٹ ، زراعت ، لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ ، کنسولیڈیشن اور منصوبہ بندی وترقیات رہے ۔سیاست ساہیوال میں خان محمد ارشد لودھی کا نام ایک ناقابل فراموش حیثیت رکھتا ہے۔اگر ان کے سیاسی کیرئیر پر نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے 1968 میں یونین کونسل ہڑپہ کے چیئرمین اور چیئرمین مرکز کونسل پنجاب رہنے کے بعد 1972 کے الیکشن میں حلقہ پی پی 204 سے صوبائی سیٹ پر منتخب ہو کر اپنا سیاسی وجود ثابت کیا اور 1972 سے 77 تک ایم پی اے رہے۔1985 میں صوبائی اسمبلی کی نشست پر حلقہ پی پی 204 ساہیوال سے ہی جنرل الیکشن جیتا اور صوبائی وزیر کالونیز، ریونیو اینڈ ریلیف، لائیو سٹاک اور ڈیری ڈویلپمنٹ کنسولیڈیشن رہے۔پھر حلقہ پی پی 182 سے اسلامی جمہوری اتحاد پارٹی کی طرف سے الیکشن جیتا اور 1988 میں ریونیو کے صوبائی وزیر رہے۔1990 میں بھی یہی عمل دہرایا گیا اور ارشد لودھی حلقہ پی پی 182 ساہیوال سے اسلامی جمہوری اتحاد کے بینر تلے صوبائی نشست جیت کر ریونیو کے وزیر بنے۔ واضح رہے کہ اس الیکشن میں ارشد لودھی نے حاجی ریاض کو شکست دی تھی.اس کے بعد ارشد لودھی نے پاکستان مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کر لی۔ اور 1993 کے عام انتخابات میں حلقہ پی پی 182 ساہیوال سے الیکشن لڑا لیکن اس دفعہ پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار حاجی ریاض کامیاب ٹھہرے۔اس شکست کا بدلہ ارشد لودھی نے اگلے انتخابات میں چکا دیا جب 1997 کے الیکشن میں حلقہ پی پی 182 کے میدان سے کامیابی حاصل کی اور انڈسٹریز اور منرل ڈویلپمنٹ کے صوبائی وزیر بنے۔2002 کے عام انتخابات میں ارشد خان لودھی مسلم لیگ ق کی طرف سے حلقہ پی پی 223 میں کامیاب ہوئے۔2008 کے انتخابات میں حلقہ پی پی 223 سے مسلم لیگ ق کی نمائندگی میں ارشد خان لودھی کو پیپلز پارٹی کے حفیظ اختر چوہدری نے شکست دی۔2013 کے عام انتخابات میں ارشد خان لودھی واپس مسلم لیگ ن میں آ گئے اور الیکشن جیت کر اپنی اہمیت ثابت کی۔ارشد خان لودھی نے ہڑپہ شہر اور متصل علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں پر کام کیا۔گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول، گرلز ہائی سکول، گرلز کالج کے قیام، سرکاری ہسپتال، دریائے راوی تک پختہ سڑک کی تعمیر ان کے کارہائے نمایاں میں شامل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں