21

یومِ آزادی اور ہمارے نوجوان


یہ اس وقت کی بات ہے جب میری عمر بمشکل 10 سے 12 برس کے قریب تھی، تقریباََ20 سے 25 بچوں کی ایک ٹولی جن میں سے کچھ کے ہاتھ میں سبز ہلالی پرچم تھے اور سینے پر مختلف رنگوں کے جشن آزادی کے بیج پہن رکھے تھے رنگ برنگے کپڑے پہنے ہوئے چھوٹے سے جلوس کی شکل میں سکول کی طرف جا رہے تھے اور ایک لڑکا نعرہ بلند کرتا ”نعرہ تکبیر“ باقی بچے زور دار آواز میں اللہ اکبر کی صدا بلند کرتے پھر ”پاکستان کا مطلب کیا؟“ لا الٰہ الا اللہ، تیرا میرا رشتہ کیا؟ لا الٰہ الا اللہ کی آوازیں بلند ہوتیں جس سے ننھے جلوس میں جوش و خروش کا مزید اضافہ ہوتا رہتا اور گاؤں کے بزرگ افراد پاس سے گزرتے ان کی آنکھوں کی چمک بڑھ جاتی اور پیار بھرے انداز میں بچوں کو دیکھ کر مسکراتے اور ان کی آواز میں اپنی شفقت بھری آواز ملاتے ”لا الٰہ الا اللہ“
ابھی جب میں 14 اگست کو باہر جاتا ہوں تو نا ہی پہلے والا جوش نظر آتا ہے اور نا ہی وہ بزرگ نظر آتے ہیں، سڑکوں پر قومی پرچموں کی بہتات ہے ہر ڈیزائن کے بیج، بچوں اور بڑوں کے قومی پرچم والے لباس ہر سٹال پر نظر آتے ہیں اور ان کے ساتھ ایک ”قومی باجا“ بھی نظر آتا ہے جو آزادی منانے کا ایک لازمی جزو بن گیا ہے۔ سڑک پر جائیں تو موٹر سائیکل سواروں کے سر پر قومی پرچم بندھا ہوا جس سے وہ پسینہ صاف کرنے کا کام بھی بلا جھجک لے لیتے ہیں اور کچھ کڑیل جوان تو موقع ملنے پر موٹر سائیکل سے گرد وغبار بھی جھاڑتے ہوئے مجھے نظر آتے ہیں،کچھ نے چہرے پر قومی پرچم پینٹ کروایا ہوا ہاتھوں جہازی سائز باجا اٹھا یا ہوا کوئی بزرگ یا بچہ پاس سے گزرے تو زوردار ”پوووووں“ کی آواز نکالتے ہیں جس سے وہ سہم جاتے ہیں ۔
اس میں مکمل طور پر ہمارے جوانوں،ہمارے بچوں کا قصور نہیں ہے بلکہ بحثیت مجموعی ہم سب اس کے ذمہ دار ہیں،سوچیں اب وہ والدین کہاں گئے جو بچوں کو چھوٹی عمر سے ہی پاکستان بننے کے قصے سنایا کرتے تھے؟ وہ نغمہ نگار کہاں گئے جن کی آواز سے پاکستان سے محبت کی خوشبو بھی آیا کرتی تھی؟ وہ کتابیں کہاں غائب ہو گئیں جن میں پاکستان بننے کے واقعات لکھے ہوتے تھے؟ وہ ٹی وی ڈرامے کہاں گئے جن کو دیکھ کر ہم 1947 میں چلے جایا کرتے تھے اور ان کے ساتھ ساتھ روتے تھے؟ وہ استاد کہاں گئے جو آزادی کے متعلق کوئی سبق پڑھاتے تو ان کی آواز بھرا جایا کرتی تھی؟ اب تو 14 اگست صرف ایک تہوار رہ گیا ہے اور ہم سب اس میں صرف ایکٹر رہ گئے ہیں، سال میں ایک دن نوجوان باجے بجا کر، فیکٹریوں والے قومی پرچم اور لباس چھاپ کر، سرکاری ملازم چھٹی منا کر، استاد بچوں سے رٹی رٹائی تقاریر اور ٹیبلو کروا کر، اینکر اور نیوز کاسٹر سبز لباس پہن کر، سیاستدان تقریبات میں کیک کاٹ کر بھرپور طریقے سے ایکٹنگ کر رہے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے اب اس کی ذمہ داری کون اٹھائے گا؟ اس کی واحد امید ہماری نوجوان نسل ہے جو یہ سب کر سکتے ہیں ہم مل کر اس ملک کو مزید سنوار سکتے ہیں ہم اپنے بچوں کو پرانے خواب واپس دیکھا سکتے ہیں، ہم میں سے ہی جو نوجوان اساتذہ ہیں وہ نئی نسل میں وطن سے محبت کی آگ کو دوبارہ بھڑکا سکتے ہیں کیونکہ ابھی چنگاری باقی ہے، یہی نوجوان اپنی صلاحیتوں کا مثبت استعمال کر کے سوشل میڈیا کے ذریعے نفرت ختم کر کے امن و محبت کے بیج بو سکتے ہیں۔
اس وقت سوشل میڈیا کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے نوجوانوں نے فیس بک پر مختلف گروپ بنا رکھے ہیں ٹک ٹاک پر ان کے فالوورز کی تعداد ہزاروں اور لاکھوں میں ہے، یو ٹیوب چینلز پر بھی نوجوان ہی نظر آ رہے ہیں لیکن دیکھا جائے تو ان پلیٹ فارمز کا مثبت سے زیادہ منفی استعمال ہو رہا ہے سیاست دانوں نے نوجوانوں کے ذہنوں میں نفرت کے بیج بو دیے ہیں جس کی وجہ سے نوجوان بھی اسی سمت چل پڑے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے نوجوان اپنی صلاحیتیں ملک کی تعمیرو ترقی کے لیے وقف کریں سوشل میڈیا کا مثبت استعمال کر کے نفرتوں کو ختم کریں اور آزادی والے دن کی مناسبت سے ٖ فضول کاموں اور رسوم و رواج کے بجائے مثبت سرگرمیوں کو فروغ دیں
غیر نصابی کتب کا مطالعہ، کھیلوں کی سرگرمیوں کوفروغ دیں، موبائیل فون کا غلط استعمال چھوڑ دیں تو آدھے سے زیادہ مسائل حل ہو سکتے ہیں پاکستان کے سبز ہلالی پرچم کی نسبت سے اپنے ملک کو بھی سر سبز بنانے کا عہد کریں اور اپنے ارد گرد کے ماحول کو بھی صاف ستھرا رکھیں اور جتنا ممکن ہو سکے پھلدار اور پھولدار درخت لگائیں، کم از کم ہر بندہ ایک درخت تو لگا سکتا ہے جس کی وجہ سے پاکستان کے خوبصورت موسم دوبارہ لوٹ آئیں گے اور ماحولیات میں بہتری کی وجہ سے ملک بھی ترقی کرے گا۔
ٓآج کل جو بھی نوکری پیشہ افراد ہیں چاہے وہ سرکاری یا پرائیویٹ ہوں صرف پیسے کمانے کے لیے جاب کرتے ہیں جب کہ ترقی یافتہ ممالک میں دیکھا جائے تو ان لاگوں کے ذہن میں ملک کی بہتری بھی ہوتی ہے، اگر ہر بندہ اپنے پیشے سے مخلص ہو جائے تو زیادہ تر مسائل خود ہی حل ہو جائیں گے تھانوں میں، سکولوں میں، دفاتر میں، فیکٹریوں میں، کارخانوں میں، ہسپتالوں میں کام کرنے والے ہی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں تو اس ملک کو ترقی کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا، ہماری نوجوان نسل اور ہم سب اس بات کو سمجھیں اور صرف اپنے اپنے حصے کا ہی کام احسن انداز میں کریں تو سوچیں کہ باقی کیا رہ جائے گا؟
میں اپنے ملک کے نوجوانوں سے مایوس نہیں ہوں میرے دل میں امید ابھی باقی ہے کہ ایک دن آئے گا یہی نوجوان پیارے ملک پاکستان کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کریں گے اور ہم بھی فخر سے سر اٹھا کر چلیں گے اور سبز ہلالی پرچم کی قیادت نوجوان نسل کے ہاتھ میں محفوظ ہو گی اور ہم سب کے دل میں وہی محبت دوبارہ بیدار ہو گی اور سبز ہلالی پرچم کا تقدس دوبارہ سے بحال ہو گا اور ایک ننھا بچہ پھر نعرہ لگائے گا ’ ’تیرا میرا رشتہ کیا“ جواب میں بچوں، بوڑھوں، خواتین، اور نوجوانوں کی محبت بھری صدا آئے گی ”لا الٰہ الا اللہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں