31

موثر سفارت کاری، تنازعہ کشمیر کے حل کے لئے ایک قابل عمل راستہ ہوسکتی ہے: آئی پی سی اے کانفرنس سے مقررین کا خطاب


اسلام آباد ( شاہدمحمود) انسٹیوٹ آف پیس اینڈ کنٹیمپریری آفئیرز کے زیر اہتمام ایک روزہ کانفرنس اسلام آباد کلب میں ’’مودی ہندوتوا گٹھ جوڑ اور کشمیر کی جدوجہد‘‘ کے موضوع پر منعقد ہوئی۔ سابق سفیر نائلہ چوہان نے مسئلہ کشمیر کو قومی اور بین الاقوامی فورمز پر اجاگر کرنے میں پاکستان کے نمایاں کردار پر روشنی ڈالی۔ بھارت سب سے پہلے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں لے کر گیا تاہم جب اقوام متحدہ نے کشمیر کو پاکستان اور بھارت کے درمیان بین الاقوامی تنازعہ قرار دیا تو اس نے بھارتی خواہشات کو پس پشت ڈال دیا اور بھارت پیچھے ہٹ گیا۔ انہوں نے بین الاقوامی میڈیا کے دوہرے معیار کو اجاگر کیا کہ وہ خطے میں بھارتی افواج کی طرف سے انسانی حقوق کے مظالم کو اجاگر کرنے سے گریز کرتا ہے۔
سابق وائس نیول چیف اور ہندوستان میں پاکستان کے نیول اتاشی ایڈمرل محمد ہارون نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان نے ہمیشہ ہندوستان کے ساتھ اچھے تعلقات کو فروغ دینے کے مفاد میں کی جانے والی کسی بھی امن سازی کی کوششوں میں پیش قدمی کی ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیر کے حل کا واحد راستہ جنگ ہے۔
گروپ کیپٹن (ر) سلطان محمود حالی نے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی پر ہندوتوا کے اثرات کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے خطے میں بھارت کی جانب سے بڑے پیمانے پر قتل عام اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے روشنی ڈالی کہ بھارتی فورسز نے کشمیری خواتین کی تذلیل کے لیے عصمت دری کو حکمت عملی کے طور پر استعمال کیا۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی جانب سے فعال سفارت کاری کی ضرورت پر زور دیا۔
قائد اعظم یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر مجیب افضل نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے تنازعات کے حل کے طریقوں کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے باہمی طور پر قابل قبول راستوں کا جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا جو کہ عملی طور پر نافذ العمل ہیں، جن میں امن سفارت کاری، باہمی مذاکرات اور جامع مذاکرات شامل ہیں۔ انہوں نے کشمیر میں بھارت کے تسلط پسند اور ہٹ دھرمی پر مبنی طاقت کے نفاذ پر تنقید کی۔
چیئرمین کشمیر یوتھ ایسوسی ایشن ڈاکٹر مجاہد گیلانی نے تنازعہ کشمیر کی زمینی حقیقت کی منظر کشی کی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ کس طرح کشمیریوں کو صرف متاثرین کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ کہ وہ اپنی آذادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ سید علی گیلانی (رح)، ڈاکٹر قاسم فکتو، آسیہ اندرابی اور یاسین ملک کی قربانیوں کو اجاگر کرتے ہوئے، انہوں نے اپنی واحد شناخت کے طور پر پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے کے اپنے پختہ موقف کا اظہار کیا۔
سابق سفیر صلاح الدین چودھری نے تنازعات کے حل میں امن کے متلاشی ذہنیت کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے باہمی احترام، سب کے ساتھ دوستی اور کسی کے ساتھ بغض نہ رکھنے پر زور دیا۔ انہوں نے کشمیر کی جدوجہد میں درپیش چیلنجز پر قابو پانے کے لیے سفارتی پیش رفت کی اہمیت پر زور دیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ جلد کشمیر بھارتی جارحیت سے آزاد ہو جائے گا اور کشمیری اپنے وطن میں آزادی سے زندگی بسر کریں گے۔
ایگزیکٹیو ڈائریکٹر انسٹیوٹ آف پیس اینڈ کنٹیمپریری آفئیرز حسام صدیقی نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ عام پاکستانیوں کے لیے ’جہاد بل قلم‘ کے تصور پر عمل کرنے کی اشد ضرورت ہے، کیونکہ یہ بھارت کا مکروہ چہرہ قومی اور بین الااقومی میڈیا پر بےنقاب کرنے کا واحد طریقہ ہے۔ ایک مختصر سوال و جواب کا سیشن بھی ہوا جس میں کانفرنس کے شرکاء نے جوش و خروش سے شرکت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں