91

آہ! وہ مارچ کا مہینہ

پہلے پہل موبائل فون اور دیگر مصروفیات نا ہونے کی وجہ سے زندگی انتہائی سہل اور پر سکون تھی، لوگ سر شام ہی سو جاتے اور صبح جلدی اٹھ کر اپنے کاروبار زندگی میں مصروف ہو جاتے جس کی وجہ سے وقت کی رفتار بھی اتنی تیز نہیں تھی۔ اس وجہ سے ہم بھی عشاء کی نماز سے پہلے ہی کھانا پینا کر لیتے اور نماز پڑھ کر سو جاتے، سردیوں میں تو رات کے دس بجے تک دو تین بار آنکھ بھی کھل جاتی، اس دورانیے میں جب جاگتا تو والد محترم کو مختلف کتابوں اور اخبارات کا مطالعہ کرتے ہوئے دیکھ کر تجسس سا ہوتا کہ رات گئے تک کیا پڑھتے رہتے ہیں، پھر کبھی کبھار دوکان سے دو روپے والا خط کا لفافہ منگواتے اور ایک تہہ شدہ کاغذ اس میں ڈالتے اور لیٹر بکس میں ڈال آتے، میری یہ وہ عمر تھی جس میں ہر بات کو نوٹ کرتا اور سیکھنے کا عمل یہی سے شروع ہوا۔ پھر ان کی دیکھا دیکھی اخبارات پڑھنے شروع کیے تو پتا چلا کہ ایڈیٹر کی ڈاک میں والد محترم معاشرے کی کمزوریوں، سماجی مسائل اور حکمرانوں کی غلطیوں کی نشاندہی کرتے، ان کی تحاریر پڑھ کر میں نے بھی ان کی نقل شروع کی اور خط کا لفافہ لے کر آتا اور ابو جان کی ڈائری سے اخبارات کے ڈاک کے پتے نوٹ کر کے پہیلیاں اور اقوال زریں لکھ کر بھیجنا شروع کر دیں۔
والد محترم میرے شفیق باپ کے ساتھ ساتھ میرے روحانی باپ بھی تھے اور میری صحافت اور کالم نگاری کے پہلے استاد بھی وہی تھے، مارچ کا مہینہ تھا وفات سے ایک ہفتہ قبل ڈاکٹر کو چیک کروانے میرے بڑے بھائی کے ساتھ بہارہ کہو کے پرائیویٹ ہسپتا ل میں آئے جب میں نے ڈیوٹی پر جانے کی جازت چاہی تو جیب سے سو روپیہ نکال کر مجھے کرائے کے لیے دیا، گو کہ میرے پاس پیسے موجود تھے اور ایک اکیڈمی میں پڑھا بھی رہا تھا لیکن ان کے نزدیک میں ابھی بچہ تھا اور اسی لیے میں نے بھی ان سے پیسے لے لیے اور چلا گیا، یہ میری ان سے آخری ملاقات تھی۔
23 اور 24 مارچ کی درمیانی شب بہارہ کہو میں اپنے کمرے میں سو رہا تھا تو بے چینی کی وجہ سے پہلو بدلتا رہا اور خلاف معمول فجر سے کافی پہلے اٹھ گیا، کھڑکی سے باہر دیکھا تو گھپ اندھیرا اور بوندا باندی ہو رہی تھی۔ فجر کے ٹائم ہی مختلف دوستوں کے فون آنا شروع ہوئے اور مختصراََ خیر خیریت کے بعد فون کاٹ دیتے، دل میں خوف اور گھبراہٹ نے ڈیر ہ جما لیا۔ بڑے بھائی نے گھر آنے کا حکم دیا تو فوراََ گھر کی طرف نکل گیا، بارش کچھ دیر کے لیے رکی تھی لیکن گاؤں کی فضا میں عجیب سی سوگواریت تھی گھر پہنچنے تک تمام معاملات سے بے خبر تھا، گھر پہنچا تو والد محترم کو سفید کفن میں ملبوس دیکھا، رب تعالیٰ سے ملاقات کی خوشی نے چہرے کی رونق کو بڑھا دیا تھا۔ لیکن میرے سر پر قیامت ٹوٹ پڑی تھی اور پھر میرے آنکھوں میں آنسو اور جسم میں خون جم گیا۔
پیارے استاد و والد محترم 1945ء کو آزاد کشمیر کے ضلع مظفر آباد میں پیدا ہوئے اور مختلف سکولوں اور پھر مدارس میں تعلیم حاصل کرتے رہے اور نوجوانی میں ہی تحصیل مری کے نواحی گاوں پٹھلی میں بطور امام اور معلم تشریف لے آئے۔ علاقے کے بزرگ و خواتین کے مطابق اس وقت گاؤں میں جہالت عام تھی اور والد مرحوم نے علم کی روشنی پھیلانے کا بیڑا اٹھا لیا، وسائل کی کمی، مسجد کی خستہ حال کچی عمارت اور تنگ دستی ان کے رستے کی رکاوٹ نا بن سکیں، بزرگوں کے مطابق ان مشکل حالات کی وجہ سے کوئی بھی معلم زیادہ عرصہ یہاں پر نہیں رہ سکا لیکن والد مرحوم نے گاؤں کی تین نسلوں کو قرآن مجید کی تعلیم سے روشناس کیا، ان کو گاؤں کے بڑوں اور اپنے شاگردان سے بے پناہ محبت تھی اور جو جو تعلیم سے فراغت حاصل کرتا پھر اس کا نام لے کر اس کو مخاطب نا کرتے، علاقے کے مردو خواتین ان سے دینی مسائل کے علاوہ گھریلو مسائل میں بھی رہنمائی حاصل کرتے اور اپنی امانتیں تک آپ کے پاس رکھواتے۔ وہ گاؤں اور گردونواح کے لوگوں کا فی سبیل اللہ روحانی علاج کرتے اور دن رات کی پرواہ کیے بغیر بنا کسی لالچ کے دور دراز تک مریضوں کی عیادت اور ان کی مشکلات کم کرنے کے لیے تشریف لے جاتے۔
گاؤں میں ہندوانہ رسوم و رواج ختم کروانے کے لیے حافظ عبد الخالق مرحوم نے اپنے ساتھیوں اور شاگردان کے ساتھ مل کر ایک اصلاحی کمیٹی کی بنیاد رکھی، جس نے نا صرٖ ف رسوم و رواج کو توڑنے میں اپنا کردار ادا کیا بلکہ گاؤں کے بنیادی مسائل بجلی، سڑک اور دیگر کاموں کے لیے بھی اس کمیٹی نے اپنا کردار ادا کیا یہ ان کے فلاحی کاموں کی وہ مختصر ترین فہرست ہے جو ان کی ڈائریوں اور پرانے ساتھیوں کے دل و دماغ میں آج بھی تازہ ہے۔
علاقے کے محسن اور استاد نے ایک کچی مسجد اور ایک کمرے سے علم کی بنیاد رکھی اور اپنی زندگی میں ہی اس کی شاخوں کو پھلتا پھولتا دیکھا اور پرسکون انداز میں اپنے سینکڑوں بیٹوں، بیٹیوں جیسے شاگردوں جن میں موجودہ حفاظ، قراء اور علماء کرام بھی شامل ہیں ان کو سوگوار چھوڑ کر 69 برس کی عمر میں 24 مارچ 2014ء کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔
علم کی روشنی سے سینکڑوں مردو خواتین کے سینوں کو روشن کیا اور آج بھی ان کے شاگرد اور ان کی نسلوں کی تلاوت قرآنی کی آوازیں مدرسے کے سامنے موجود ان کی قبر کے اندر جاتی ہوں گی تو فرشتے بھی ان پر رشک کرتے ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں