220

لاہور ،گھر سے والدہ کی دوائی لینے کیلئے نکلنا جرم بن گیا، پولیس اہلکاروں نے مارکیٹ آئی دو سگی بہنوں کے ساتھ کیا کر ڈالا..

لاہور (نیوز ڈیسک)گھر سے ماں کی دوائی لینے نکلنے والی دو بہنوں صباء اور شازیہ کیساتھ پولیس اہلکاروں نے نازیبا حرکات کی۔تفصیل کے مطابق واقعہ لاہور کے علاقے میں فردوس مارکیٹ کے قریب پیش آیا جہاں پولیس اہلکاروں نے دوخواتین کو روک کر ان کیساتھ نازیبا حرکات کیں ۔

خواتین کے جاری ویڈیو بیان میں دو بہنوں نے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ وہ ماں کی دوائی لینے کیلئے فردوس مارکیٹ کے قریب سے گز رہیں تھی کہ تین پولیس اہلکاروں جس میں سلطان نامی کانسٹیبل بھی شامل ہےنے انہیں روکا ، تیسرا پولیس اہلکار فوری طور پر گاڑی میں جا بیٹھا۔پولیس اہلکاروں نے نازیبا حرکات کیں اور کہا تم دھندے والی خواتین ہو اور پیسے بھی طلب کئے۔جاری ویڈیو بیان میں خواتین نے الزام عائد کیا ہے کہ پیسے نہ ہونے پر پولیس اہلکاروں نے ہماری موبائل چھین لئے ، تاہم ایس ایچ او علی عجمت کو واقعہ بتانے پر پولیس اہلکاروں سے موبائل فون برآمد کرلئے گئے۔خواتین کا کہنا ہے کہ اے ایس پی نے یہ کہتے ہوئے ہیں دفتر سے دھکے دے کرنکال دیا کہ یہ محکمانہ معاملہ ہے ہم خود ہینڈل کرلیں گے۔خواتین کا کہناہے عام شخص کیلئے قانون بہت سخت ہیں مگر پولیس اہلکاروں کے موبائل چھیننے اور نازیبا حرکات کرنے پر کوئی ایکشن نہیں لیا گیا یہ کیسا انصاف ہے۔پولیس اہلکاروں کا خواتین کے ساتھ نازیبا حرکات کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکےا س سے قبل بھی خواتین کو ہراسگی کے ساتھ زیادتی کا نشانہ بنایا جاتارہا ہے۔یاد رہے راولپنڈی میں تھانہ روات کے 3 پولیس اہلکاروں سمیت 4 ملزمان نے 22 سال کی لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنایاتھا،تاہم پولیس کیمطابق اجتماعی زیادتی کے ملزموں کوگرفتار کر لیا گیاتھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں