152

سوچ بدلے آپ کی زندگی

Spread the love
  • 4
    Shares

کالم نگار ، تجزیہ نگار ۔۔ محمد آصف تبسم 
(ایم ۔ اے انگلش، ایم فل ۔پاکستان اسٹڈیز)
ہماری زندگی کی اکثر تلخیوں اور ناخوشگواریوں کی وجہ ہمارے بنائے ہوئے نظریات ہوتے ہیں اور ان نظریات کی بنیاد وہ مشاہدات ہیں جو ہم نے اپنے اردگرد کے ماحول سے لیے ہوئے ہیں اس لیے اردگرد کے ماحول کا اچھا ہونا بہت ضروری ہے اور ہمیں یہ سمجھنے کی بھی ضرورت ہے کہ جیسے ہمارے مشاہدات ہونگے ویسے ہی نظریات ہونگے۔ انہی نظریات کو بنیاد بنا کر ہم زندگی کے فیصلے کرتے ہیں اور یہی نظریات ہماری زندگی کا تعین کرتے ہیں ۔ اس لیے اگر آپ کو زندگی میں بہتری لانی ہے تو اپنے مشاہدات کو بہتر بنانا ہو گا اور اس کے لیے اپنے اردگرد کے ماحول کو بہتر بنائیں ، اچھے لوگوں میں اٹھیں بیٹھیں ، اچھی کتابیں پڑھیں اور نئی نئی اچھی چیزیں سیکھیں اس سے آپ کی سوچ کو وسعت ملے گی ، آپ نئے ڈھنگ سے سوچ سکیں گے اور ا س سے نہ صرف نظریات میں بہتری آئے گی بلکہ ان نظریات کا معیار بھی اچھا ہو گا ۔ ہمیں سمجھ لینا چاہیے کہ اچھی سوچ ہی کردار سازی کرتی ہے اور یہی کردار سازی معاشرہ بناتی ہے ۔ صرف یہی نہیں اچھی سوچ ، اچھے نظریات ہی اچھے انسان کی پہچان ہیں۔ اسی طرح اچھا مشاہدہ ہی اچھے نظریات کو جنم دیتا ہے جو بہترین زندگی کا ضامن ہے۔
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ دنیا میں ایک جیسے نظر آنے والے انسانوں میں کچھ غریب اور کچھ امیر کیوں ہوتے ہیں۔؟اگر ساری دنیا کی دولت تمام انسانوں میں باہم تقسیم کر دیں تو آپ دیکھیں گے کہ کچھ دنوں میں پھر سے کچھ لوگ غریب اورکچھ امیر ہوں گے اس لیے کہ انسان کے سوچنے کے طریقے مختلف ہیں۔آج دنیا میں ایک دلچسپ موضوع یہ ہے کہ کیسے کچھ لوگ کامیاب ہو جاتے ہیں۔؟وہ کیا عوامل ہیں جس سے کچھ لوگ ساری زندگی ناکام ہی رہتے ہیں۔؟ اس دنیامیں آپ کو دو طرح کے لوگ ملتے ہیں ایک وہ جو ناکامی سے کامیابی کے سفر میں بذات خود کٹھن حالات کا سامنا کرتے ہیں یہ مستقل مزاجی سے آگے بڑھتے رہتے ہیں اور اس سفر میں آنے والی پریشانیوں ، مصیبتوں سے نہیں گھبراتے ، بلآخر یہ کامیاب ہو جاتے ہیں ۔ دوسرے وہ جو اپنی ساری زندگی کمفرٹ زون میں گزار دیتے ہیں جب کامیابی ان سے ایک قدم دور ہوتی ہے یہ چند دائروں میں الجھ کر رہ جاتے ہیں اگر ان دونوں کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو کامیاب اور ناکام لوگوں کا فرق آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے بہت سے کام ہیں جن سے اس فرق کی پہچان کی جاسکتی ہے۔کامیاب شخص کی زندگی پلاننگ اور مقاصد سے بھر پور ہوتی ہے وہ زندگی مقاصد کے حصول کے لیے گزارتا ہے ۔جبکہ ناکام شخص کی زندگی میں کوئی مقصد ، کوئی وژن نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ ناکام شخص زندگی کو نہیں بلکہ زندگی اسے گزار رہی ہوتی ہے ۔ کامیاب شخص اپنی زندگی خود تخلیق کرتا ہے یہ اپنے کام سے محبت کرتا ہے ، نئے آیڈیاز تلاش کرتا ہے ، کتابیں پڑھتا ہے ، کامیاب لوگوں سے ملتا ہے ، ان کی عادتیں اپناتا ہے ، ان سے کچھ نیا سیکھنے کی کوشش کرتا رہتا ہے ۔ یہ بڑے بڑے خواب دیکھتا ہے اور ان خوابوں کی تعبیر کے لیے کمر کس لیتا ہے۔
کامیاب شخص اپنے وقت کا درست استعمال کرتا ہے یہ اپنے دل و دماغ میں بیٹھا دیتا ہے کہ دنیا مواقعوں کا بازار ہے یہاں سے جتنا مال خرید سکتے ہو خرید لو۔ یہ موقعوں کے اس بازار میں کسی سے حسد نہیں کرتا بلکہ اپنے سے زیادہ کامیاب لوگوں کی محفلیں تلاش کرتا ہے اور ان میں جُڑ جاتا ہے ۔ یہ کامیاب لوگوں سے تعلقات بناتا ہے اور ان سے بہت کچھ سیکھتا چلا جاتا ہے جس سے اس کی سوچنے کی صلاحیتیں نکھری ہوئی ہوتی ہے یہ اپنی زندگی میں بہتری کی رمق محسوس کرتا ہے پھر یہ نئے راستوں پر چل کر نئی منزلیں پا لیتا ہے۔اس کے برعکس ناکام شخص موقعوں کے بازار سے خالی ہاتھ لوٹ آتا ہے یہ ان مواقع سے فائدہ نہیں اٹھاتا اور انہیں بے کار سمجھتا ہے ۔ یہ بھی دنیا کے مواقعوں کے بازار تو جاتا ہے مگر حسد کی آگ میں جل کر خاکستر لوٹتا ہے یہ اپنی ساری توانائیاں حسد کرنے میں ضائع کر دیتا ہے یہ ایک مخصوص دائرے تک سیکھتا ہے اس لیے یہ بڑی کامیابی حاصل نہیں کر پاتا۔
اگر ہم کامیابی و ناکامی کی اصل وجوہات کو تلاش کریں تو پتہ چلتا ہے کہ اس کے پس و پردہ انسانی سوچ ہی ہے جو انسان کو کامیاب و ناکام بناتی ہے ۔ اگر آپ کاروباری شعبے سے تعلق رکھتے ہیں اور کامیاب بزنس مینوں میں اپنا نام لکھوانا چاہتے ہیں تو بادشاہوں والی سوچ پیدا کرنا بے حد ضروری ہے ۔ جس طرح فقیر ساری زندگی مانگنے والی سوچ سے باہر نکل کر کامیاب نہیں بن سکتا اس طرح بزنس میں اپنی بہترین سوچ و خیالات سے اپنے حالات بدل سکتا ہے کیونکہ انسان حالات کا نہیں خیالات کا پیداوار ہے۔آپ کی زندگی میں جتنی بھی مشکلات آئیں وہ آپ کی فکر ، سوچ اور آپ کے یقین کے نتائج ہیں دراصل جب ہم ماضی کے بارے میں سوچتے ہیں اس کا منفی اثر ہمارے حال اور مستقبل پڑتا ہے اور ہم آزاد فیصلے بالکل نہیں کر سکتے ۔اکثر اوقات ہم جو سوچتے ہیں اور بات کرتے ہیں وہ منفی خیالات و افکار پر مبنی ہوتا ہے جس کی بابت اچھا نتیجہ مرتب ہوتا ہے نہ ہمارے سوچنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے اس لیے اپنی زندگی کو نارمل اور بہتر بنانے کے لیے سب سے پہلا قدم اپنی سوچ کو بہتر بنانا اور غور کرنے کے طریقے پر نظر ثانی کرنا ہے آپ جس راستے پر ابھی کھڑے ہیں اس کے بارے میں بات مت کریں بلکہ کل آپ جس راستے پر اور جس مقام پر ہوں گے اس کے بارے میں غور کریں۔جب آپ کسی چیز کے بارے میں مسلسل سوچتے ہیں اس سے اس کام کا کوئی حل نکل آتا ہے اور دوسرا کام کرنے ، آگے بڑھنے اور کچھ کر دکھانے کا جذبہ دل میں موجزن ہو جاتا ہے سوچ کو وسعت ملتی ہے اور انسان بڑے فیصلے کرنے کا اہل بن جاتا ہے زندگی کے نشیب وفراز ہماری منفی یا مثبت سوچ کا نتیجہ ہوتا ہے یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ منفی سوچ منفی اثرات مرتب کرتی ہے ۔انسان کو اپنے ہدف سے دور رکھتی ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے ناکامی انسان کو نقصان نہیں پہنچاتی بلکہ منفی سوچ نہ صرف یہ کہ نقصان پہنچاتی ہے بلکہ ہماری امیدوں اور خوابوں کو بکھیر کے رکھ دیتی ہے اس لیے ناکامی کے بعد پریشانی کو اپنے قریب پٹکنے بھی نہیں دینا چاہیے کیونکہ یہ دائمی نہیں ہوتی اچھی اور خوشگوار زندگی میں ہماری عقل سب سے بڑا کردار ادا کرتی ہے اس لیے ماضی کو بھلائے بغیر ہم کبھی آگے نہیں بڑھ سکتے۔اگرآپ بھی کامیاب زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلا کام یہ کریں کہ اپنی سوچ بدلیں حالات اپنے آپ مڑ جائیں گے۔ پھر خیالات کا بدلنا انتہائی آسان ہو جائے گا۔ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتے ہیں کہ ’’انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے‘‘۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں