6

ساہیوال DHQکے نرسری وارڈ سے بچی اغواء SHOفرید ٹاؤن عابد حسین بھلہ نے ملزمان کو دھر لیا

Spread the love

تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ ہسپتال ساہیوال کی نرسری وارڈ سے مورخہ 22/23-9-2019کی درمیانی شب کو نو مولود بچی اغواء کی گئی جس پر بچی کے ورثاء نے پولیس کو اطلاع دی جس پر فوری مقدمہ نمبری 606/19مورخہ 24/9/19کو بجرم 363 ت پ تھانہ فرید ٹاؤن درج کیا گیا اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کیپٹن (ر) محمد علی ضیاء

نے فوری نوٹس لیتے ہوئے حقائق پر مقدمہ کی تفتیش اور ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے ASPسٹی سرکل ڈاکڑ انعم فریال

کی نگرانی میں SHOتھانہ فرید ٹاؤن انسپکڑ عابد بھلہ

, ملک ندیم انور SI, عمر دراز T/Si, محمد داؤد ASIانچارج آئی ٹی برانچ پر مشتمل سپیشل ٹیم تشکیل دی جنہوں نے شب روز محنت جدید طریقہ تفتیش کو بروئے کار لاتے لاتے ہوئے جیو فینسنگ , کال ڈیٹا ریکارڈ, CCTVکیمروں و دیگر ریکارڈ کی مدد سے نو مولود بچی کے اغواء میں ملوث اصل ملزمان 1 راشدہ لطیف دختر شاہد لطیف قوم راجپوت سکنہ ریلوے روڈ , 2 غلام ذہرہ زوجہ محمد اشرف شاہ قوم سید بخاری سکنہ ریلوے روڈ 3 رقیہ بی بی زوجہ کاشف دختر عبدالحمید قوم راجپوت نائی سکنہ ریلوے ورڈ کوFIRکے اندراج سے تین دن کے اندر ٹریس کرکے گرفتار کر لیا.

دوران تفتیش ملزمہ مسماتہ راشدہ لطیف دختر شاہد لطیف قوم راجپوت سکنہ ریلوے روڈ نے بتایا کہ میری بھابھی ممرین مورخہ 20/9/19کو بغرض ڈیلیوری DHQگائنی وارڈ میں داخل ہوئی . جس کے ہاں بچہ پیدا ہوا . جس کو نرسری وارڈ میں شفٹ کر دیا گیا. میں بھی بچے کے ساتھ نرسری وارڈ میں دیکھ بھال کے لیے موجود تھی. مجھے معلوم ہوا کہ وہاں ایک بچی 2روز سے لاوارث موجود ہے. میری محلہ دار رقیہ بی بی اور غلام ذہرہ کسی لاوارث بچے کو گود لینا چاہتی تھیں . میں نے ان کو بتایا تو وہ دونوں بھی نرسری میں آگئیں . ذہرہ نے بتایا کہ وہاں پر رشدہ لطیف نے بچی کی نشاندہی کی جس کو اٹھا کر ہم رقیہ بی بی کے گھر لے آئیں. ایک رات رقیہ کے گھر قیام کیا اگلی صبح بچی کی صحت ٹھیک نہ ہونے پر رقیہ بی بی نے کہا کہ بچی کو آپ اپنے گھر لے جاؤ. جس پر بچی کو میں اپنے گھر لے آئی. شام کے وقت بچی کا رنگ تبدیل ہونے لگا تو میں بچی کو فوری DHQنرسری وارڈ میں دوبارہ واپس لے گئی. ڈاکڑ نے بتایا کہ بچی فوت ہو گئی ہے جس کو لے کر میں واپس گھر آگئی. رات تقریبا 9/8 بجے میرے خاوند اور میرے بیٹے نے بعد نماز جنازہ بچی کو قریبی قبرستان دوسہرا گراؤنڈ میں دفنا دیا. نومولود بچی کے اغواء میں ملوث تینوں خواتین ملزمان کو حسب ضبابطہ گرفتار کر لیا گیا. ضباطہ کے تحت قبر کشائی کروا کر بچی کا پوسٹ مارٹم کروا کر وجہ موت معلوم کی جائے گئی اور بچی کے DNAسمپل حاصل کرکے والدین کے ساتھ Matchبھی کروائے جائیں گئے. مزید تفتیش جاری ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں