3

وہ وقت دور نہیں جب مظلوم کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت مل کر ہی رہے گا

Spread the love

ساہیوال (63نیوز ساہیوال ) ڈپٹی کمشنر محمد زمان وٹو نے کہا ہے کہ جب ارادے مصمم ،حوصلے بلند اور قوم کا بچہ بچہ جذبہ قربانی سے آشنا ہو تو تحریکوں کو کامیابی کی منزل سے زیادہ دیردور نہیں رکھا جاسکتا۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی غاصبانہ قبضے کے خلاف شروع ہونے والی تحریک آزادی آج فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکی ہے جس کی شدت میں ہر آنے والے دن کے ساتھ اضافہ ہوتا جارہا ہے اور وہ وقت دور نہیں جب مظلوم کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت مل کر ہی رہے گا کیونکہ جنوبی ایشیا میں امن کا واحد راستہ مسئلہ کشمیر کے پُرامن اور منصفانہ حل میں ہی مضمر ہے ۔وہ یہاں گورنمنٹ کمپری ہنسو اسکول میں کشمیری بھائیوں سے یکجہتی کیلئے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے ۔تقریب میں سی ای او ایجوکیشن محمد سجاد اسلم ،ڈی ای او سیکنڈری مسز غزالہ انور وٹو ،پرنسپل محمد یٰسین خان بلوچ اور ہیڈماسٹرز ایسویسی ایشن ساہیوال کے سابق صدر راﺅ اشرف علی خان کے علاوہ طلباءو طالبات ،اساتذہ کرام اور والدین کے علاوہ سول سوسائٹی کی کثیر تعداد بھی موجود تھی۔انہوں نے کہا کہ آج کشمیریوں کی عظیم الشان تحریک نے جہاں ایک طرف ساری دنیا کو اپنی جانب متوجہ کر لیا ہے، وہیں بھارتی حکمرانوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے، دنیا نے دیکھا کہ کس طرح نئی دہلی میں بھارتی وزیر اعظم اعتراف شکست کرتے ہوئے بڑی بے بسی کے ساتھ کانپتے ہوئے ہونٹوں سے کہہ رہے تھے کہ کشمیری عورتوں، بچوں اور نوجوانوں کے مظاہروں نے انہیں ہلا کر رکھ دیا ہے۔دشمن کے اِس بیان سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی کہ کشمیر کی تحریک آزادی ایک ایسے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکی ہے جس میں بچے، بوڑھے، جوان حتیٰ کہ خواتین بھی بندوق کے خوف سے بے نیاز ہوکر گولیوں اور سنگینوں کے سائے میں سینہ تان کر کھڑے ہیں۔ڈپٹی کمشنر محمد زمان وٹو نے کہا کہ بھارت اور عالمی دنیا کو نوشتہ دیوار پڑھ کر اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کشمیر کے آتش فشاں کو سرد کرنے کے لئے کشمیریوں کو ان کی امنگوں کے مطابق ان کا حق خود ارادیت دینا ہے یا طاقت کے زور پر آزادی کی اس تحریک کو کچل کر عالمی امن کو خطرے سے دوچار کرنا ہے۔آج نہ صرف یہ کہ پوری دنیا مقبوضہ کشمیر کی طرف متوجہ ہو رہی ہے بلکہ کشمیر کے ہر طبقے کے اندر یہ احساس فزوں تر ہو رہا ہے کہ اگرانہوںنے یہ موقع ضائع کر دیا تو پھر شائدآزادی کی صبح کبھی طلوع نہ ہوسکے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سی ای او ایجوکیشن محمد سجاد اسلم نے کہا کہ کشمیری عوام اب اس فیصلہ کن معرکے کا تہیہ کرچکے ہیں جس کے ذریعے قوموں کو غلامی کی زنجیروں سے آزادی نصیب ہوتی ہے کیونکہ کشمیری نوجوان اب ماضی کے تمام مظالم اور شہداءکی قربانیوں کا قرض چکانے کے لئے ایک ہوچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے اجتماعی شعور نے یہ فیصلہ دے دیا ہے کہ آزادی ”ابھی نہیں تو کبھی نہیں“ اوراسی وجہ سے ساری کشمیری قوم بھارت کے جابرانہ تسلط کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں پچھلے چار ماہ سے جاری جدوجہد آزادی کی نئی لہر روز بروز طاقت پکڑ رہی ہے جسے نظر انداز کرنابھارت کیلئے آسان نہیں رہا۔تقریب سے دیگر مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان کے جاندار موقف کی بدولت آزادی کشمیر کی تحریک دنیا بھر میں تیزی میں اجاگر ہو رہی ہے اور پاکستانی موقف کی تائید سے گھبر ا کر مودی حکومت اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے لیکن تحریک کامیاب ہو کر ہی رہے گی۔ تقریب کے اختتام پر ایک آگہی واک کا بھی اہتمام کیا گیا جس میں عوام الناس نے کثیر تعداد میں شرکت کی اور مظلوم کشمیری بھائیوں کے حق خود ارادیت کے حصول کیلئے ہر طرح کی امداد کا عندیہ دیا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں