73

کسووال پولیس ملازم نے بھائی اور ساتھی کی مدد سے طالب علم اغوا کر کے برہنہ ویڈیو بنا لی۔ ویڈیو وائرل

Spread the love

کسووال پولیس ملازم نے بھائی اور ساتھی کی مدد سے طالب علم اغوا کر کے برہنہ ویڈیو بنا لی۔ ویڈیو وائرلتفصیلات کے مطابق کسووال پولیس ملازم نے بھائی اور ساتھی کی مدد سے طالب علم اغوا کر لیا ڈیرہ پر لے جاکر کر برہنہ کرکے تشدد ویڈیو بھی بناتے رہے طالبعلم کے والد نے پولیس تھانہ کسووال کو کارروائی کے لئے درخواست دے دی تفصیل کے مطابق نواحی گاؤں 103 بارہ ایل کے رہائشی محمد امیر اسد کا جوان سال بیٹا بیٹا جو کہ ٹیکنالوجی کالج ساہیوال میں زیر تعلیم بتایا گیا ہے مورخہ 13 مئی 2019 کو کالج سے گھر آنےکے لیے رات 9 بجے کے قریب اڈا 103 باریل ایل پر رکشہ سے اترااور پیدل گھر کی طرف جاتے ہوئے یے اسےنواحی گاؤں 102 بارہ ایل کے پولیس ملازم محسن علی نے اپنے بھائی علی حسن اور ساتھی ذیشان عالم کے ہمراہ اغوا کر لیا ملزمان طالب علم فرحان حیدر کو کو اپنے ڈیرہ پر لے گے اور وہاں اسے زبردستی برہنہ کرکے اپنے موبائل سے اس کی ویڈیو بناتے رہے اور ساتھ تشدد بھی کرتے رہے ہے بعد ازاں انہوں نے طالب علم کو یہ کہہ کر کر چھوڑ دیا کہ کہ اگر تم نے یا تمہارے گھر والوں نے کوئی قانونی کاروائی کی تو تمہاری یہ ویڈیو انٹرنیٹ پر وائرل کر دیں گے انہوں نےوہ ویڈیو طالب علم کے موبائل فون میں بھی شیئر کر دی وجہ عناد یہ بتائی گئی ہے کہ طالب علم علی فرحان حیدر ملزمان کی ہمشیرہ کے ایک نوجوان عدیل سے ناجائز تعلقات کے بارے میں میں جانتا تھا ملزمان فرحان حیدر سے سے عدیل اور اپنی ہمشیرہ کے تعلق کے بارے میں تصدیق کرنا چاہتے تھے طالبعلم فرحان حیدر کے والد امیر اسد نے نے پولیس تھانہ کسووال کو کاروائی کے لیے درخواست دیں مگر 24گھنٹے گزرنے کے باوجود کارروائی نہ ہونا پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ میڈیا پر خبر نشرہونے پر مقدمہ درج کر لیا گیا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں