32

ساہیوال آرٹس کونسل کے زیر اہتمام ”ماہِ رمضان اور قیام پاکستان “ سیمینار

Spread the love

ساہیوال ( 63نیوز ساہیوال)ساہیوال آرٹس کونسل کے زیر اہتمام ”ماہِ رمضان اور قیام پاکستان “کے عنوان سے سیمینار منعقد ہوا۔اس تقریب کی صدارت معروف دانشور اور ’کلام شفقت ‘ کے خالق مہر شفقت اللہ مشتاق نے کی جبکہ مقررین میں میاں بابر صغیر ،پیر احسان الحق ادریس،پروفیسر عمران جعفر اور ڈاکٹر ریاض ہمدانی شامل تھے۔مہر شفقت اللہ مشتاق نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ قیام پاکستان صرف تقسیمِ پاک و ہند نہیں بلکہ حق اور باطل کی تقسیم ہے۔پاکستان کے قیام کو ماہِ رمضان کے ساتھ ساتھ نزول قرآن کے ساتھ جوڑ کر دیکھنا ہوگا تاکہ پاکستان جیسی اسلامی اور جمہوری ریاست کی حقیقی معنویت اجاگر ہوسکے۔انہوں نے مزید کہا کہ ریاست مدینہ کے تصورکو عملی شکل دینے کے لیے ہمیں اپنے ذہنوں سے کرپشن نکالنا ہوگی۔یوں معاشرتی سطح پر ایسے ذہن نمو دار ہوں گے جو پاکستانیت اور انسانیت کے لیے خیر کا باعث بنیں گے۔اس موقع پرمیاں بابر صغیر نے پاکستانی مسلم کمیونٹی کا دوسرے ممالک میں موجود مسلمانوں کے ساتھ تقابل کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی اپنی پہچان اور شناخت کے اعتبار سے مسلم دنیا میں اپنا الگ مقام رکھتے ہیں۔قیام پاکستان اور ماہِ رمضان سے جڑی ہماری یہی پہچان ہمیںایک خوددار قوم اور پاکستان کا فرمانبردار بناتی ہے۔ پیر احسان الحق ادریس نے ماہِ رمضان کی عظمتوں اور برکتوں کو پاکستان کے لیے باعث رحمت قرار دیا ۔انہوں نے پاکستان کی سلامتی اور ترقی کے لیے خصوصی دعا کی۔پروفیسر عمران جعفر نے ماہِ رمضان کو مسلمانوں کے لیے عملی نمونہ ظاہر کرنے والا مہینہ قرار دیا ۔انہوں نے فکری طور پر اس سوال کو اجاگر کیا کہ کرپشن اور ذخیرہ اندوزی ہمارے معاشرتی مسائل کی بڑی وجہ ہیں،ہمیں ان برائیوں کو عملی طور پر ختم کر کے قائد اعظم محمد علی جناح کی روح کو تسکین پہنچانا ہوگی،تاکہ وطن عزیز جدید دنیا میں خود کو ایک ذمہ دار اور باوقار ملک کے طور پر متعارف کروا سکے۔ڈائریکٹر ساہیوال آرٹس کونسل ڈاکٹر ریاض ہمدانی نے حاضرین مجلس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ماہِ رمضان کا بیانیہ انسان پروری ،احساس،قربانی اور اللہ کی خوشنودی سے تشکیل پاتا ہے۔ہمیں پاکستان کے قومی بیانیے کی تشکیل میں ان اجزاءکو شامل کرتے ہوئے نچلے طبقات کی خوشحالی کے لیے اجتماعی طورپر لائحہ عمل اپنانا ہوگا۔تقریب میں موجود مختلف تعلیمی اداروں کے اساتذہ کرام نے ان فکری و قومی مباحث اور آرٹس کونسل کی اس کاوش کو خوب سراہا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں