132

خدارا! صبر کریں

Spread the love

تحریر:شاہدمحمود
آج کل اگر آپ کو چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے،بازاروں میں،پارکوں میں یا مساجد کے باہر یہ الفاظ اکثر سننے کو ملتے ہوں گئے کہ ”بس تھوڑا صبر کرو،ٹھیک ہونے میں کچھ وقت لگے گا“ شروع میں تو لوگ اس جملے کو سنتے اور قرآن کریم کی یہ آیت یاد آجاتی ”بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے“ پھر مطمئن ہو کر اپنے کاموں میں مصروف ہو جاتے ذہن میں ایک امید کی کرن جگمگاتی کہ واقعی کوئی خدا ترس حکمران آگیا ہے جو کہ عوام کےدکھ درد کو اپنا دکھ سمجھتا ہے کیونکہ عمران خان کا وزیر اعظم بننے کے بعد عوام سے جو پہلا خطاب تھا وہ اتنا متاثر کن تھا کہ ہر کسی نے عمران خان کو پاکستانی قوم کا مسیحا سمجھنا شروع کر دیا اور خان صاحب کے شدید مخالفین بھی اس خطاب اور اس جذبے کی دا ددیے بغیر نہ رہ سکے یہاں پر میں عمران خان کے خطاب کی کچھ لائنیں نقل کرتا ہوں تا کہ جن لوگوں نے وہ تقریر نہیں سنی تھی ان کو بھی علم ہو جائے کہ خان صاحب ہمارے متعلق کتنا درد دل رکھتے تھے۔
”ہم نے اگر اپنے آپ کو تباہی سے روکنا ہے تو ہمیں اپنی سوچ بدلنی پڑے گی،ہمیں اپنے طریقے بدلنے پڑیں گے،ہمیں اپنا رہن سہن بدلنا پڑے گا اور اس قوم کے لیے جو سب سے زیادہ ضروری چیز ہے وہ یہ کہ ہمیں اپنے دل میں رحم پیدا کرنا پڑے گا کیونکہ ہماری آدھی آبادی صحیح طرح دو وقت کی روٹی بھی نہیں کھا سکتی کیونکہ پاکستان کے45فیصد بچوں کو ہم صحیح طرح سے کھانا بھی نہیں دے پا رہے“
قارئین کرام! جو حکمران ایسی باتیں اپنے پہلے خطاب میں کرے تو اس کے بارے میں بندہ یہی اندازہ لگا سکتا ہے کہ وہ عوام کا مسیحا ہو سکتا ہے اس کو عوام کے چھوٹے چھوٹے مسائل کا بخوبی علم ہے،میں تحریک انصاف کے کارکنوں کی وجہ سے کبھی اس جماعت کا حامی نہیں رہا ہوں لیکن میں بھی عمران خان کے اس خطاب سے بہت متاثر ہوا اور اکثر دوستوں کی محفل میں یہی کہتا رہا کہ ”یہ بندہ کچھ کرے گا پاکستان کے لیے“ اسی خطاب میں خان صاحب نے اور بھی متاثر کن باتیں کیں،مغربی ممالک کی مثال دیتے ہوئے خان صاحب نے فرمایا
”ناروے،سویڈن اور ڈنمارک جیسے ممالک جنہیں مہذب معاشرہ کہا جاتا ہے،وہاں پروگریسیو ٹیکسیشن موجود ہے اور پیسے والے ٹیکس دیتے ہیں جن کے پیسے سے نچلے طبقے کی بنیادی ضروریات کو پورا کیا جاتا ہے،غریبوں کی بنیادی تعلیم سے لیکر اعلیٰ تعلیم تک،اعلیٰ علاج اور بے روزگاری کی صورت میں پیسے دیے جاتے ہیں،اگر کوئی عدالت میں جائے تو حکومت اسے وکیل کر کے دیتی ہے،یہ ساری چیزیں آج مغرب میں موجود ہیں اور یہی چیزیں اس وقت نبی کریمﷺ مدینہ کی ریاست میں لے کر آئے اور مدینہ کی ریاست میں ہی حضرت عمر ؓ کا اعلان تھا کہ اگر کوئی کتا بھی بھوکا مرے تو میں عمرؓ اس کا ذمہ دار ہوں یعنی صرف انسانوں کی نہیں بلکہ جانوروں کی بھی ذمہ داری عائد تھی“
یہ تو باتیں اس وقت خان صاحب نے عوام کے درد کو محسوس کرتے ہوئے کیں یا پھر جیت کی خوشی میں عوام کو بھی شامل کر کے خوش کر دیا الگ ایشو ہے۔ حکومت سنبھالنے کے بعد خان صاحب کو یہ اندازہ ہو گیا کہ وہ جس کرسی کو پھولوں کی سیج سمجھ رہے تھے وہ کانٹوں کی سیج نکلی، پھر وزیر اعظم صاحب نے عوام کو صبر کا درس دینا شروع کر دیا،پہلے پٹرول مہنگا ہوا صبر کا درس دیا گیا،پھر ڈالر مہنگا ہوا پھر صبر کا درس دیا گیا اس کے بعد جب دوائیں مہنگی ہوئیں تو پھر بھی صبر کا درس دیا گیا، پھر دوبارہ پٹرول مہنگا ہوا تو تقریباََ ہر چیز مہنگی ہو گئی پھر صبر کا درس دیا گیا کچھ عرصہ تو عوام بھی صبر کرتی رہی لیکن پھر عوام نے بھی چوں چراں شروع کر دی کیونکہ اب عوام کا بجٹ خراب ہونا شروع ہو گیاتھا۔
قارئین کرام! صبر تو آپ سب نے بھی بہت کیا ہم نے بھی کر کے دیکھ لیا لیکن صبر کرنے کے لیے پہلے سو دن بتائے گئے، پھر کہا گیا چھ ماہ صبر کریں جب چھ ماہ بھی گزر گئے تو اب کہا جا رہا ہے کہ کچھ عرصہ مزید صبر کریں،حکومتی جماعت تحریک انصاف کے کارکن تو ستر سال صبر کرنے کے لئے تیار ہیں کیونکہ ان کے نزدیک غریب عوام کی اہمیت سے زیادہ خان کی حکومت کی اہمیت ہے کیونکہ وہ بائیس سالہ جد جہد کے ملی ہے اور اسی تناظر میں وہ گریب عوام کو طعنے مارنے سے بھی باز نہیں آتے کہ پچھلی حکومتوں نے تمہارہ بیڑا غرق کیا ہے تو اس وقت کیوں نہیں بولتے تھے ان لوگوں کو ووٹ کیوں دیتے تھے (گویا یہ حکومت ملنے کے بعد عوام سے پچھلے بائیس سال کا بدلہ لے رہے ہیں) دوسری جانب مخالف پارٹیوں کے کارکن تو ایک گھنٹہ بھی صبر کرنے کی پوزیشن میں نہیں کیونکہ ان کے نزدیک بھی غریبوں کی اہمیت سے زیادہ اس چیز کا دکھ ہے کہ عمران خان وزیر اعظم کیوں ہے۔
اب درمیانہ راستہ ان لوگوں کا ہے جو پارٹیوں سے زیادہ ملک پاکستان کو اہمیت دیتے ہیں ان کے خیال میں حکومت چاہے کسی کی بھی ہو مہنگائی کنٹرول میں ہونی چاہیے،غریب کو دوائی کی ضرورت آج ہے تو سال کے بعد وہ دوائی کا کیا کرے گا اس لیے ان چیزوں پر زیادہ کنٹرول ہونا چاہیے تیسرے طبقے کے نزدیک غریب کو صبر کا درس دینے سے بہتر ہے خان صاحب اپنی تقریر کے الفاظ کو ہی دوہرا لیا کریں،اور یہی تیسرا طبقہ جو غیر جانبدار ہے یا سیاست سے کم دلچسپی رکھتا ہے وہ کچھ شرائط پر اس وقت تک صبر کرنے کے لیے بھی تیار ہے جب تک ملک پاکستان کی معیشت کے حالات بہتر نہیں ہو جاتے،اگر ہمارے ساتھ حکومت بھی صبر کر لیتی ہے تو انشاء اللہ ہم بھی صبر کریں گئے۔
قارئین کرام! اس وقت ایک پاکستانی کی اوسط تنخواہ پندرہ سے پچیس ہزار کے درمیان ہے اور اس میں سے بھی زیادہ تر کی تنخواہ پندرہ ہزار سے اوپر نہیں ہے،پندرہ ہزار میں ایک گھر کا نارمل بجٹ کیسے بنتا ہے وہی بندہ جانتا ہے جو اس میں گزارہ کر رہا ہے اور اوپر سے حکومت اور حکومتی جماعت کے کارکن کہہ رہے ہیں کہ تھوڑا عرصہ صبر کریں مہنگائی برداشت کریں سب ٹھیک ہو جائے گا۔ حکومت اگر یہ بات کہتی ہے تو پھر بھی کوئی وجہ بنتی ہے کہ حکومت میں بیٹھ کر لاکھوں روپے تنخواہ لینے والے کو کیا معلوم کہ ایک مزدور یا پندرہ،بیس ہزار لینے ولا کیسے گزارہ کرتا ہے۔حکومتی جماعت کے کارکن جب یہ کہتے ہیں تو عجیب سا لگتا ہے کیوں کہ وہ بھی ہمارے ساتھ اٹھنے بیٹھنے والے لوگ ہیں ان کی آمدنی بھی پندرہ،بیس ہزار سے زیادہ نہیں،عجیب اس لیے کہ کیا کبھی انہوں نے سوچا کہ جو حکمران ہمیں پندرہ ہزار میں صبر کرنے کی کہہ رہے ہیں ان کی اپنی تنخواہ اگر اتنی کر دی جائے تو کیا وہ بھی صبر کر لیں گئے؟
قارئین کرام! اب اپنے ان کفایت شعار اور محب وطن حکمرانوں اور سیاستدانوں کی تنخواہیں چیک کریں جو عوام کے درد میں پاگل ہو رہے ہیں اور ہمیں صبر کرنے کے بارے میں کہہ رہے ہیں، اس وقت قومی اسمبلی کے کل ممبران کی تعداد 342 ہے اور ان ارکین اسمبلی کی ماہانہ تنخواہ سات کروڑ اٹھائیس لاکھ چھیالیس ہزار ہے جو کہ فی ممبر دو لاکھ تیرہ ہزار بنتی ہے اس کے علاوہ ان کے میٹنگ اور اجلاس میں شرکت وغیرہ کے روزانہ کے جو الاونس بنتے ہیں زرا وہ بھی مالاحظہ فرمائیں فی ممبر گیارہ ہزار چھ سو روپے ایک دن کی میٹنگ کا خرچہ ہے اور اور اگر مہینے میں قومی اسمبلی کے سات دن اجلاس ہوں اور فی مہینہ اوسطاََ پانچ دن میٹنگز ہوں تو ایک لاکھ انتالیس ہزار روپے فی ممبر بنتے ہیں جو کہ تمام ممبران کے چار کروڑ چھہتر لاکھ چھ ہزار چار سو روپے بن جاتے ہیں اب ٹوٹل خرچہ ان 342 اراکین پر بارہ کروڑ سے زیادہ آتا ہے۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ342 اراکین جو ماہانہ تنخواہ اور الاونس لیتے ہیں یہ 8300 مزدوروں کی فی مزدور پندرہ ہزار روپے کے حساب سے ماہانہ تنخواہ بنتی ہے
محترم قارئین! ابھی یہاں پر بس نہیں ہوا اس کے علاوہ ان اراکین کو ایر ٹکٹ اور ہسپتالوں میں فری علاج کی سہولیات کے علاوہ بھی لاتعداد سہولیات دی گئی ہیں دوسری جانب وزراء کی تنخواہیں اور مراعات اس کے علاوہ ہیں اور یہ صرف قومی اسمبلی کے اراکین کی تنخواہوں کا تخمینہ لگایاگیا ہے،سینیٹ آف پاکستان کے ممبران کی تعداد 103 ہے،پنجاب اسمبلی کے ممبران کی تعداد 369،سندھ اسمبلی 168،بلوچستان اسمبلی65،اور خیبر پختونخواہ اسمبلی کے اراکین کی تعداد 124ہے۔ سینیٹ،قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے ٹوٹل ممبران کی تعداد1171 بنتی ہے جن کی ماہانہ تنخواہیں پینتیس کروڑ کے قریب بنتی ہیں۔ اور یہ اعداد و شمار سوشل میڈیا پر کی جانے والی پوسٹوں کی طرح کے اعدادو شمار نہیں ہیں بلکہ یہ اعداو شمار مکمل نیک نیتی اور ذمہ داری کے ساتھ لکھے گئے ہیں ان کی معلومات قومی اسمبلی کی ویب سائٹ اورصوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ کے مصدقہ حلقوں سے سے لی گئی ہیں۔
قارئین کرام! یہ وہ اراکین قومی اسمبلی ہیں جو کہ عوامی جلسوں اور میٹینگز میں کہتے ہیں کہ ہم عوام کی خدمت کے لیے سیاست کر رہے ہیں، اگر عوام کی خدمت کے لیے ہی کر رہے ہیں تو آپ لاکھوں روپے کی تنخواہ کیوں لے رہے ہیں اگر میں بیس ہزار میں گزارا کر سکتا ہوں، اپنے بچوں کو سکول بھی بھیج سکتا ہوں، ہسپتال سے علاج بھی کرواتا ہوں، دوستوں اور رشتہ داروں کی خوشی،غمی میں بھی شرکت کرتا ہوں،بجلی،گیس کے بل بھی جمع کروا رہا ہوں تو آپ کیوں ڈر رہے ہیں آپ تیس ہزار میں یہ کام کیوں نہیں کر سکتے؟
اب اصل موضوع کی طرف آتے ہیں کہ یہ 1171 بندے ہمیں کہتے ہیں کہ صبر کرو ان سے پوچھیں کیا آپ بھی ہمارے ساتھ صبر کر لیں گئے؟،ہم تواپنے ملک کی خاطر صبر کر لیں گئے۔ کیا تحریک انصاف کے کارکن ان تنخواہوں کا بھی دفاع کریں گئے یا جرات کر کے وزیر اعظم صاحب اور وزراء کو بتائیں گے کہ عوام صبر کرنے کے لیے تیار ہے اگر آپ کی تنخواہیں اور ہماری تنخواہیں معیشت کے درست ہونے اور قرضے اترنے تک ایک جیسی رہیں۔ اگر ہم پندرہ ہزار ماہانہ میں گزارہ کر رہے ہیں اور صبر بھی کریں گئے تو آپ پندرہ کے بجائے تیس ہزار ماہانہ میں گزارہ کریں اور ہمارے ساتھ آپ بھی صبر کریں اس طرح صرف اراکین اسمبلی کی تنخواہوں سے ماہانہ تیس کروڑ اور سالانہ تین ارب روپے سے زائد قومی خزانے کو فائدہ ہو گا میں گارنٹی سے کہتا ہوں اگر اراکین اسمبلی،وزراء اور وفاقی سیکرٹریز سینکڑوں کی تعداد میں ججز،فوجی افسران اور ہزاروں بیوروکریٹس کی تنخواہ عام عوام کے برابر کر دی جائے اور عوام کی طرح کفایت شعاری کی جائے تو نا صرف ماہانہ اربوں روپے قومی خزانے میں جمع ہوں گئے بلکہ عوام آپ کے ساتھ صبر کرے گی اس کے بعد بھی عوام صبر نہ کرے تو اس عوام کے ساتھ اس سے بھی برا ہونا چاہیے۔
اور ہاں اگر حکمران اور سیاستدان اپنی تنخواہیں اس سے کم نہیں کر سکتے اور اپنی عیاشیوں پر سمجھوتہ نہیں کر سکتے تو ان کو بھی کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ خود پانچ لاکھ کی مراعات حاصل کر رہے ہیں اور بیس ہزار والے مزدور کو بولیں کہ ”میرے پاکستانیو! گھبرانا نہیں پاکستان کی تباہی کے ذمہ دار پچھلے حکمران ہیں اب ہماری حکومت ہے تو صبر کریں“ اور حکومتی جماعت کے کارکنوں کو بھی چاہیے کہ خدارا! صرف عوام کو ہی صبر کا درس نہ دیں بلکہ کلے دل اور کھلے دماغ سے سوچیں کہ حکومت چاہے کسی کی بھی ہو کیا ان کی تنخواہیں عام عوام کے برابر نہیں ہونی چاہیے؟ اگر آپ سوچتے ہیں کہ ان کی تنخواہ کم ہو گی تو ان کے لیے مشکل ہو گی تو سوچیں اگر ہم مشکل حالات میں غزارہ کر رہے ہیں تو وہ بھی کر یں پاکستان ہم سب کے لیے ایک جیسا نہیں اگر ہم معیشت کی بہتری چاہتے ہیں تو کیا ہمارے حکمران محب وطن نہیں؟ اور اگر حکمران یہ سوچتے ہیں کہ ہم ماہانہ لاکھوں کی مراعات بھی لیں گئے،ہسپتالوں میں علاج بھی فری کروائیں گئے، جہازوں میں سفر بھی فری کریں گئے، بجلی اور گیس بھی فری میں استعمال کریں گئے، ٹیلیفون کا بل بھی قومی خزانے سے لیں گئے،سیر سپاٹے بھی سرکاری پٹرول پر کریں گئے اور پھر عوام کو صبر کا درس دیں گئے تو یہ ان کی بھول ہے عوام کبھی آپ کی بات پر عمل نہیں کریں گئے۔ دوسری صورت میں عوام آپ کا ہر طرح سے ساتھ بھی دے گی اور بھوکے پیٹ بھی صبر کرنے کے لیے تیار ہوں گئے اور ایسے لیڈر اور حکمران کو ایک پارٹی نہیں بلکہ ایک قوم اور ایک تاریخ یاد رکھتی ہے،لہٰذا قدم بڑھائیں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں