70

5 دن کی قید 6 سال میں بدل گئی،پاکستانی نظام انصاف کا عجب کارنامہ

Spread the love

اسلام آباد (شاہدمحمود) پاکستان میں نظام انصاف کا ایک اور عجب کارنامہ منظر عام پر آ گیا۔تفصیلات کے مطابق لاہور کے نولکھا بازار میں پان سگریٹ فروخت کرنے والے دکاندار جمشید اقبال کو 2013 میں پرائس مجسٹریٹ نے احترامِ رمضان آرڈیننس کی خلاف ورزی پر پانچ دن قید کی سزا سنائی تھی، جسے ختم ہوئے چھ سال گزرنے کے باوجود بھی جیل حکام انہیں رہا نہیں کر رہے تھے اور ان سے رہائی کا عدالتی حکم نامہ مانگا جارہا تھا۔
اپنی درخواست میں جمشید اقبال نے موقف اختیار کیا تھا کہ انہیں احترامِ رمضان آرڈیننس کی خلاف ورزی کی پاداش میں افطار سے کچھ دیر پہلے دکان کھولنے پر گرفتار کرکے سپیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا تھا، جہاں سے انہیں پانچ دن قید کی سزا سنائی گئی تھی، تاہم جب سزا پوری ہوئی تو جیل حکام نے رہائی کا عدالتی حکم نامہ اور روبکار طلب کی مگر عدالتوں میں اپیل پر سماعت چھ سال تک نہ ہوسکی۔
جمعے کو اپیل پر سماعت کے بعد عدالت نے قرار دیا کہ ملزم جمشید اقبال کو احترامِ رمضان آرڈیننس کے تحت غلط سزا ملی اور سپیشل مجسٹریٹ نے خلاف قانون پانچ دن قید کی سزا سنائی۔
فاضل جج نے ریمارکس دیے کہ احترامِ رمضان آرڈیننس کی جس دفعہ کے تحت ملزم کو سزا سنائی گئی وہ آرڈیننس میں موجود ہی نہیں اور دوسری جانب ملزم کی پانچ دن قید کے خلاف اپیل کے فیصلے میں چھ سال کا وقت لگ گیا۔ عدالت نے غلط قید اور عدالتی نظام کی سستی پر درخواست گزار سے معافی مانگی۔
اس موقع پر فاضل جج نے ریمارکس دیے کہ ’اس طرح کا انصاف تو پتھر کے دور میں بھی نہیں کیا گیا۔ یہ واقعہ اس نظام کے چہرے پر دھبہ ہے۔ ایک شہری کے چھ سال ضائع کر دینے کی کوئی تلافی نہیں ہو سکتی۔‘
سماعت کے بعد ایڈیشنل سیشن جج عامر حبیب نے چیف سیکریٹری پنجاب کو اہل افسران کو سپیشل مجسٹریٹ تعینات کرنے کا حکم دیا جبکہ جمشید اقبال کی اپیل منظور کرتے ہوئے انہیں فوری رہا کرنے کا بھی فیصلہ سنایا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں