105

ہم اور ہمارے حکمران

(ایک دوست کی وال سے تحریر کاپی کی۔۔ قارئین کے ذوق کے لیے )

پرویز مشرف نے کبھی کعبے کا دروازہ اپنے ہاتھوں سے کھولا
تو کبھی نواز شریف نے
اور کبھی عمران خان ننگے پیر مدینے کی سڑکوں پر چلے ….
مگر….
سلطان صلاح الدین ایوبیؒ حکومتی معاملات اور صلیبیوں کے مقابلے میں اتنا مشغول رہے کہ کبھی کعبہ نہ دیکھ سکے،
ایوبیؒ نے حاجیوں پر حملہ کرنے والے صلیبیوں کو ختم کرنے کا وقت تو نکال لیا
لیکن اپنی خواہش کے باوجود کبھی جنگ اور کبھی فتنوں کی وجہ سے حاجی نہ بن سکے.

یہ کوئی انوکھی بات نہیں تھی۔
کیونکہ مسلم حکمرانوں کو معلوم تھا کہ مسلمانوں کے اجتماعی معاملات کا دفاع اپنی انفرادی عبادات سے پہلے آتا ہے.

اسی لیے حکمران کو پرکھنے کا معیار یہ نہیں ہوتا کہ وہ تہجد کتنی پڑھتا ہے یا کعبے کے دروازے اس کیلیے کتنی بار کھولے گئے
بلکہ معیار تو یہ ہے کہ حکمران کو جہاں اقتدار ملا ہے وہاں اللّٰہﷻ کا دین غالب ہے یا نہیں………؟
مظلوم کو protection حاصل ہے یا نہیں………..؟

اب اگر کوئی حاکم
لوگوں کے معاملات کو بگاڑ دے،
دین نافذ نہ کرے،
سودی قرضے لے،
ٹیکس سے غریب کو بھوکا مار دے،
کفار کے حملوں سے مسلمانوں کو تحفظ نہ دے,
کشمیریوں کو بھارت کے رحم و کرم پر چھوڑ دے,
مسجد اقصٰی پر یہودی قبضے اور معصوم مسلمانوں پر ظلم و بربریت دیکھتے ہوئے آنکھیں پھیر لے،
اور حج پر حج اور عمرے پر عمرے کرے،
حاجیوں کو زم زم پلاتا رہے،
رات بھر تہجد وہ بھی مسجد نبویﷺ میں پڑھتا رہے

تو بھی اس نے خیر نہیں کیا،
اس نے اجر نہیں کمایا…
اور وہ اچھا حکمران نہیں
بلکہ بظاہر نیک شخص
اور نااہل حکمران کہلائے گا…………..!!!

یہی حال آج عربوں اور باقی مسلم ممالک کے حکمرانوں کا ھے……………!!!
(( اللہ تعالی کا فرمان ہے :
اَجَعَلۡتُمۡ سِقَايَةَ الۡحَـآجِّ وَعِمَارَةَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَـرَامِ كَمَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَجَاهَدَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ‌ ؕ لَا يَسۡتَوٗنَ عِنۡدَ اللّٰهِ ‌ؕ وَ اللّٰهُ لَا يَهۡدِى الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ‌ۘ ۞

ترجمہ:
کیا تم لوگوں نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجدِ حرام کی مجاوری کرنے کو اس شخص کے کام کے برابر ٹھہرا لیا ہے جو ایمان لایا اللہ پر اور روزِ آخر پر اور جس نے جہاد کیا / جانفشانی کی اللہ کی راہ میں؟ اللہ کے نزدیک تو یہ دونوں برابر نہیں ہیں اور اللہ ظالموں کی رہنمائی نہیں کرتا ))
(

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں