143

بابا فرید یونیورسٹی اور قبضہ مافیا

کالم نگار: تنویر ساحر


پاک پتن کو بابا فرید کی نگری کہا جاتا ہے آج سے تقریباء ہزار سال قبل براعظم افریقہ میں 980 عیسوی کے دوران مصر کی جامعہ الاازہر یونیورسٹی کا قیام ہوا یورپ کی آکسفرڈ یونیورسٹی 1163 عیسوی میں بنائی گئی تب اُن کے مقابل 1212عیسوی میں اُس وقت ایشیاء میں حضرت بابا فرید کی خانقاہ ہی ایسی تھی جہاں سے مذہبی ،ثقافتی، معاشرتی اور علمی چشمے پھوت کر پورے براعظم ایشیاء کو سیراب کر رہے تھے ۔ اِس درسگاہ کے روحانی فیوض و برکات سے خاندان غلاماں کے آٹھویں حکمران غیاث الدین بلبن سے لیکر متعدد بادشاہ بھی مستفید ہوتے رہے ۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کی روحانی منازل بھی مزار فرید سے ہی منسلک ہیں ۔
وزیراعظم عمران خان نے اقتدار میں آتے ہی ہر ضلع میں یونیورسٹی کے قیام کا سرکاری منصوبہ دیا جس کے تحت پنجاب میں ہی 12 کے قریب یونیورسٹیوں کے پراجیکٹ شروع ہوئے ۔
تاریخی شہر پاک پتن کو تیس سال قبل ضلع کا درجہ دیا گیا اس کی اپنی آبادی اٹھارہ لاکھ کے قریب ہے اس کے سرحدی شہروں منچن آباد ، حویلی لکھا ، بہاولنگر اور بورے والا کی مجموعی آبادی پچاس لاکھ سے زاید ہے جہاں ہائیر ایجوکیشن کے لیے کوئی ایک بھی یونیورسٹی نہ ہے ۔ یہ لاکھوں طلباء و طالبات اعلی تعلیم کے لیے لاہور کا رُخ کرتے ہیں جس کی اپنی آبادی اوور لوڈ کے باعث پہلے ہی مسایل سے دوچار ہے اور دیگر ہزاروں طلباء و طالبات دوسرے شہروں کے تعلیمی وسایل نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم سے محروم بھی رہ جاتے ہیں ۔
وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے وزیراعظم عمران خان کے ہر ضلع میں یونیورسٹی کے ویژن کے مطابق پاک پتن میں بھی یونیورسٹی کے قیام کی ہائیر ایجوکیشن سے رپورٹ طلب کی تو ہائیر ایجوکیشن نے 21 ستمبر 2020 کو اپنی فزیبلٹی رپورٹ تیار کر دی کہ پاک پتن کی دو تحصیلیں ہیں جہاں گورنمنٹ کمرشل کالج ہوتہ روڈ کی تعداد صرف 2 سو طلباء ہے جنہیں گورنمنٹ فریدیہ کالج میں وی ٹی آئی کی خالی کردہ عمارت میں شفٹ کیا جا سکتا ہے ہائیر ایجوکیشن کی یہ عمارت کمرشل کالج کو دیکر کمرشل کالج کا 7 ایکڑ رقبہ اور ساتھ منسلک صوبائی گورنمنٹ کا 43 ایکڑ رقبہ ہائیر ایجوکیشن کو بابا فرید یونیورسٹی کے لیے منتقل کیا جائے سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن ندیم محمود کی اس سمری میں مذید کہا گیا کہ وزیر اعلی یونیورسٹی ایکٹ 2021 کے تحت بابا فرید یونیورسٹی بنانے کی باقاعدہ اجازت دیں اس کے فنڈز جاری کریں اور کمرشل کالج کی عمارت کو ہائیر ایجوکیشن کے حوالے کریں اس کے بعد بابا فرید یونیورسٹی کی تکمیل کے پہلے مرحلے پر سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو پنجاب بابر حیات ٹارڑ نے صوبائی حکومت کی یہ پچاس ایکڑ اراضی بابا فرید یونیورسٹی کو ٹرانسفر کرنے کے لیے 27 مارچ 2021 کو باقاعدہ سرکاری لیٹر جاری کر دیا یہ لیٹر جاری ہوتے ہی پنجاب کی بیوروکریسی میں جیسے کوئی کہرام برپا ہو گیا اور چار دن بعد ہی بیک وقت 31 مارچ 2021 کو پہلے سیکرٹری صنعت واصف خورشید نے بابا فرید یونیورسٹی کی مخالفت کرتے ہوئے وزیراعلی پنجاب کو لیٹر لکھ دیا کہ کمرشل کالج کی بلڈنگ محکمہ ٹویوٹا کی ہے جسے کسی اور ادارے کو دینے کی روایت نہ ڈالی جائے حالانکہ اسی محکمہ کا وی ٹی آئی کالج پندرہ سالوں سے فریدیہ کالج کی عمارت استعمال کر رہا تھا سیکرٹری صنعت کا مزید کہنا تھا کہ ٹیکنیکل تعلیم بھی دیہاتوں کے لیے ضروری ہے ۔۔ پتہ نہیں اُنہیں کس نے کہہ دیا کہ لاکھوں طلبہ کے لیے یونیورسٹی ضروری نہیں ہے ۔ اس کے بعد اِسی دن سیکرٹری فنانس افتخار علی سہو بھی 31 مارچ کو وزیر اعلی کو لیٹر لکھ رہے ہیں کہ سیکرٹری صنعت بھی بابا فرید یونیورسٹی کی مخالفت کر چکے ہیں اور ضلع لیول پر یونیورسٹی بنانے کی ضرورت ہی نہیں ہے سیکرٹری فنانس کو شاید یہ معلوم نہیں کہ وہ یونیورسٹی ایکٹ 2021 کے اور وزیراعظم کے وژن کے برعکس نیا فارمولا دے رہے ہیں کہ ضلع لیول پر یونیورسٹی بنانے کی ضرورت ہی نہیں ہے ہونہار بیوروکریسی کی یہ تیزرفتاری ابھی جاری ہے اور اسی ایک دن 31 مارچ کو ہی چیرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ عبداللہ خان سُنبل بھی وزیر اعلی کو لیٹر لکھ دیتے ہیں کہ 12 یونیورسٹیاں پہلے ہی بن رہی ہیں لہذا بابا فرید یونیورسٹی کے منصوبے کو ختم کر دیا جائے جس کے بعد سیکرٹری قانون بہادر علی خان نے سیکرٹری صنعت سیکرٹری فنانس اور چیرمین پلاننگ کے خطوط کا حوالہ دیکر دو دن بعد ہی بابا فرید یونیورسٹی کے منصوبے کو سٹینڈنگ کمیٹی آف کیبنٹ فنانس اینڈ ڈویلپمنٹ کو بھجوانے کی تحریری سفارش کر دی اور سیکرٹری ٹو چیف منیسٹر عایشہ حمید نے بھی لیٹر لکھ دیا کہ یہ منصوبہ اب کابینہ کی فنانس اینڈ ڈویلپمنٹ کیبنٹ کے سامنے رکھا جائے ۔
یہ بات سمجھنے سے پہلے کہ پنجاب میں 12 یونیورسٹیوں کے منصوبہ جات پر خاموش رہنے والی بیوروکریسی اچانک ایک ہی دن میں بابا فرید یونیورسٹی کے منصوبے پر کیسے جاگ جاتی ہے مناسب ہے کہ اب زرا ذکر ہو جائے بابا فرید یونیورسٹی پاک پتن کی مجوزہ پچاس ایکڑ اراضی کا جس پر یہ یونیورسٹی قایم کرنے کی سابق ڈی سی پاک پتن احمد کمال مان نے پرپوزل بھجوائی تھی اور گزشتہ ماہ اپنی ٹرانسفر کرا بیٹھے ان کی پرپوزل کے بعد پنجاب بورڈ آف ریونیو نے یہ پچاس ایکڑ بابا فرید یونیورسٹی کو جاری کئے ۔ یہ مجوزہ پچاس ایکڑ عرصہ 22 سال سے سرکاری ریکارڈ کے مطابق ناجایز قابضین کے زیر تصرف ہے ۔ جن کو پاک پتن سے ملحقہ ضلع کے ن لیگ کے ایم این اے کی مبینہ حمایت حاصل ہے بیس پچیس سال قبل اس رقبہ پر سمال انڈسٹریل سٹیٹ کا منصوبہ دیا گیا تھا تب مذکورہ ایم این اے کا بھانجا پاک پتن میں تحصیلدار تعینات تھا اور سمال انڈسٹریل کی بجائے یہ اراضی ایم این اے کے قریبی ساتھیوں کو الاٹ کر دی گئی پھر سمال انڈسٹریل کے منصوبے کو ختم کرنے کے لیے تب ایک ہی برادری کے ایم این اے ایم پی اے اور ڈی سی او نے سات ایکڑ پر کمرشل کالج بنوا دیا اور سمال انڈسٹریل سٹیٹ کا منصوبہ ختم ہو گیا کیونکہ سمال انڈسٹریل سٹیٹ قانون کے مطابق پچاس ایکڑ سے کم پر نہیں بن سکتی کچھ سالوں بعد پاک پتن میں تعینات ہونے والے ای ڈی او ریونیو غلام نبی نے اس اراضی کی الاٹ منٹ قانون کے مطابق ختم کر کے واپس گورنمنٹ کی تحویل میں دے دی لیکن قابضین اس آرڈر کے خلاف ہائی کورٹ میں چلے گئے اور اب صوبائی گورنمنٹ یہ کیس سپریم کورٹ میں لے جا چکی ہے ان بیس سالوں کے دوران قابضین سے یہ پچاس ایکڑ نہ خالی کرائے جا سکے نہ وہاں سمال انڈسٹریل سٹیٹ کا منصوبہ کامیاب ہو سکا اور نہ ہی اب وہاں بابا فرید یونیورسٹی بنتی دکھائی دے رہی ہے کیونکہ ن لیگ کے بااثر ایم این اے کے مبینہ حمایتی بارہ تیرہ لوگ یہ پچاس ایکڑ اراضی کاشت کر رہے ہیں اور محکمانہ گرداوری ان کے نام جاری ہوتی ہے ۔ پاک پتن اور گردونواح کے لاکھوں طلباء طالبات کا بابا فرید یونیورسٹی کا خواب پورا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا جس کے لیے درجنوں طویل احتجاج اور بھوک ہڑٹالیں بھی ہو چکی ہیں بابا فرید یونیورسٹی بناو تحریک کے کنوینئر سعید احمد چشتی کا کہنا ہے کہ حکومت اگر یونیورسٹی کے قیام کے لیے سنجیدہ ہے تو بابا فرید ٹرسٹ کے چیرمین دیوان عظمت چشتی اور جنرل سیکرٹری پیر الطاف حسین ٹرسٹ کی پچاس ایکڑ اراضی بابا فرید یونیورسٹی کو منتقل کرنے کو تیار ہیں صدیوں سے اعلی تعلیم سے محروم لوگوں کے یونیورسٹی کے دیرینہ خواب کو ٹوڑا نہ جائے اور پاک پتن کی عوام کو ہائیر ایجوکیشن کے لیے فوری طور پر یونیورسٹی مہیا کی جائے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں