49

اساتذہ قوم کے معمار اور سرکاری ملازمین ملک کے انتظامی امور کے محافظ ہیں -دردانہ صدیقی

راولپنڈی (شاہدمحمود)حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان کی سیکرٹری جنرل دردانہ صدیقی نے گلوبل پارٹنر شپ ٹیچرز ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام کوئٹہ کی خواتین اساتذہ کے جاری احتجاج پر حکومت کی طرف سے مطالبات کی عدم منظوری اور مظاہرین پر آنسو گیس کے استعمال کی پرزور مذمت کی ہے
انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ کے دعویدار حکومتی ذمہ داران بوکھلاہٹ کاشکارہیں ورنہ اپنے مطالبات کے حق میں پرامن مظاہرہ ایک اسلامی جمہوریہ مملکت میں کوئ ماروائے قانون حرکت نہیں -بلوچستان جیسے قبائلی روایات کے حامل صوبے میں اگر خواتین اساتذہ کواپنے جائزمطالبات کی تکمیل کے لئے سڑکوں پر نکلنا پڑا ہے تو یہ حکومت وقت کے لئے لمحہ فکریہ ہے
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے کوئٹہ میں بارش اور سردی میں خواتین اساتذہ کے آٹھ دن سے جاری احتجاج پر خاموشی اختیار کر کے ریاستی بے حسی کی تازہ مثال قائم کردی ہے ۔ اساتذہ قوم کے معمار اور نونہالان وطن کی تعلیم و تربیت کے پشتبان ہیں , مگر تنخواہوں کی بندش کے باعث کھانے پینے اور رہائش کے حوالے سے شدید مشکلات کا شکار ہیں – ان کے ساتھ بے حسی پر مبنی غیر منصفانہ رویہ حکومت کی جمہوریت پر سوالیہ نشان ہے
یاد رہے کہ کوئٹہ اور بلوچستان کے دور دراز دیہاتوں کی خواتین اساتذہ تنخواہوں کی بندش , مستقل نہ کئے جانے اوروفاق کی طرف سے دیا جانے والا 25 % ڈسپیرٹی الاؤنس صوبے کی طرف سے مہیا نہ کئے جانے کے خلاف گذشتہ کئ روز سے سراپا احتجاج ہیں –
سیکرٹری جنرل دردانہ صدیقی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ شیر خوار بچوں کے ہمراہ سڑکوں پر احتجاج کرنے والی خواتین اساتذہ کی دادرسی کی جائے اور ان کے جائز مطالبات کی تکمیل کے لئے کوئ فوری مناسب لائحہ عمل مرتب کیا جائے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں