75

سلم خواتین کا حجاب انتہا پسندی کی علامت نہیں بلکہ عورت کے تحفظ کی علامت ہے۔ثمینہ احسان

راولپنڈی(شاہدمحمود)مسلم خواتین کا حجاب انتہا پسندی کی علامت نہیں بلکہ اسلام کا شعار اور عورت کے تحفظ کی علامت ہے۔ یہ نہ صرف کپڑے کا ایک ٹکڑا ہے بلکہ اسلام کے پورے نظامِ حیا کی نشاندھی کرتا ہے۔ مغرب ہمیشہ ہی اسلام کے اس شعار کے بارے میں تحفظات کا شکار رہا ہے جس کی وجہ سے اس حوالے سے مغربی اقوام افراط و تفریط میں مبتلا رہی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار جماعتِ اسلامی حلقہ خواتین صوبہ شمالی پنجاب کی ناظمہ محترمہ ثمینہ احسان نے اپنے ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے سری لنکا میں حجاب اور مدارس کے خلاف پابندی کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ حجاب صدیوں سے مسلم خواتین کا طرہ امتیاز رہا ہے۔ یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے اور دینی مدارس مسلمان بچوّں کی تعلیم و تربیت کا مرکز ہیں۔ مدارسِ اور حجاب پر پابندی مذہبی آزادی اور بنیادی حقوق سلب کرنے کے مترادف ہے اور اس اقدام کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مسلم ممالک اس حوالے سے اپنی ذمہ داری ادا کریں اور دنیا میں عورت کے حقوق کی دعویدار تنظیمیں مسلم خواتین کے حوالے سے اس کھلی جانبداری پر بھی آواز بلند کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں