42

اسلام آباد میں ہول سیل ریٹ کے مطابق اشیاءخوردو نوش کی لسٹ دوبارہ جاری کی جا ئے۔محمد کاشف چوہدری

Spread the love

اسلام آباد (شاہدمحمود) آل پاکستان تا جر اتحاد کے مر کزی صدر محمد کاشف چوہدری نے چیف کمشنر اور ڈپٹی کمشنراسلام آباد سے مطالبہ کیا ہے کہ اسلام آباد میں ہول سیل ریٹ کے مطابق اشیاءخوردو نوش کی لسٹ دوبارہ جاری کی جا ئے اور بلاجواز چھاپوں،گرفتاریوں ،بھاری جرمانوں کو بند کیا جا ئے، انھوں نے کہا انتظامیہ کے اس اطرز عمل سے کم قیمت پر غیر معیاری اشیاءکی فروخت شروع ہو جا ئے گی ،کاشف چوہدری نے کہا گزشتہ چار دنوں میں ضلعی انتظامیہ نے شیلٹرزہومز اور اپنے دفاتر کے اخراجات کی ادائیگی کیلئے تاجروں کو بیس لاکھ روپے سے زائد کے جرمانے کیے،متعدد دکانوں کو بلاجواز سیل اور تاجروں کو پابند سلاسل کیا،جس سےاسلام آباد سمیت ملک بھر کی تا جر برادری میں خوف وہراس اور حکومت کے خلاف شدید اشتعال پایا جاتا ہے ۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے میلوڈی مارکیٹ میں تاجر رہنماﺅں کے مشاورتی اجلاس سے خطاب کر تے ہو ئے کیا ۔
کاشف چوہدری نے کہا اسلام آباد کے تا جر کسی صورت غیرمعیاری اشیاءفروخت نہیں کرنا چاہتے مگر انتظامیہ کی جانب سے قیمت خرید سے بھی کم ریٹ لسٹ جاری کر نا اور پھر اس کو نافذ کروانے کے لیے مارکیٹوں اور بازاروں میں چھاپے مارنا اور بھاری جر مانے کر نا تاجروں کا معاشی قتل کر نے کے مترادف ہے ،انھوں نے کہا جرما نوں سے مہنگائی کی شر ح میں کمی کے بجا ئے اس میں اضا فہ ہو گا ،ڈپٹی کمشنر کی طرف سے زبردستی کم ریٹس پر ملاوٹ شدہ اور غیر معیاری اشیاءکی فروخت کروانے پر شہر میں بیماریوں اور خدانخواستہ جانی نقصانات کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے جس کی ذمہ داری ضلعی انتظامیہ پر ہو گی ،کاشف چوہدری نے کہا رمضان المبارک کی پرائس لسٹ غیر حقیقی اور گزشتہ برس کی ریٹ لسٹ سے بھی کم ہے،جبکہ ایک سال میں مہنگائی میں کئی گنا اضافہ ھو چکا ھے،لسٹ کے مطابق آٹے کا 20 کلو تھیلا 725 روپے جبکہ فلور ملز دکانوں پر 830 روپے فی تھیلا سپلائی دے رھی ھیں،ایکس مل چینی ریٹ 67 روپے جبکہ لسٹ میں ریٹ 61 روپے ھے ،معیاری کھلے دودھ کا ریٹ ایسوسی ایشن کی مشاورت سے 110 روپے مقرر ھوا جو لسٹ میں 70 روپے کر دیا گیا اور اب ملک شاپس کو غیر معیاری،ملاوٹ شدہ دودھ 70 روپے فروخت کرنے کیلئے دباو ¿ ڈالا جا رھا ھے ،جعلی اور پاو ¿ڈر و کیمیکل کا بنا دودھ بنانے والوں کو ڈپٹی کمشنر آفس بٹھا کر میڈیا سے بات کروائی جا رھی ہے،محسوس ھوتا ہے کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ایجنڈے کی تکمیل کیلئے غیر معیاری دودھ کی فروخت سے صحت کیلئے بننے والے مسائل کو جواز بنا کر کھلے دودھ کی فروخت پر پابندی لگانا اصل ہدف ھے،اسی طرح چھوٹے گوشت کی گزشتہ سال رمضان میں قیمت 890 روپے کلو مقرر کی گئی تھی جو اب 790 کر کے قصابوں کو بیمار،لاغر ،بوڑھی بکریوں کا گوشت اس قیمت پر فروخت کرنے کیلئے مجبور کیا جا رھا ھے،روٹی کی قیمت گزشتہ سال 8 روپے مقرر تھی ،جو لسٹ میں 7 روپے کی گئی ،دوران سال متعدد دفعہ گیس کی قیمتیں بڑھنے ،آٹے کی قیمت بڑھنے کے باوجود کم وزن اور غیر معیاری روٹی 7 روپے فروخت کرنے کیلئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں