57

سائنس‘ چاند اور مولوی؟

Spread the love

نوید مسعود ہاشمی
خدا کی شان کہ وفاقی وزیر تعلیم کہتے ہیں کہ’’مدارس میں معیار تعلیم کے لئے وزارت تعلیم معاونت کرے گی۔‘‘ اور وزیر سائنس فرماتے ہیں کہ ’’عید اور رمضان کے چاند دیکھنے پر 40لاکھ خرچ کرنا کہاں کی عقلمندی ہے؟ علماء کرام کم از کم یہ کام تو بلامعاوضہ کیا کریں‘ جب تک فیصلہ نہ ہو جائے کہ ملک پر ’’ملا‘‘ نے راج کرنا ہے یا شعور نے تب تک ترقی کو بھول جائیں۔‘‘

کوئی ان سے پوچھے کہ کون سی ترقی؟ کیا ملک کو آئی ایم ایف کے حوالے کر دینے کو ملکی ترقی کہتے ہیں؟ کیا شبر زیدی اور رضا باقری ’’ترقی‘‘ کا نام ہے؟ وزیر سائنس ذرا کسی سائنسدان سے پوچھ کر قوم کو بتائیں کہ اس ملک میں مولویوں کا راج کس سن میں قائم ہوا تھا؟ سکندر مرزا‘ ایوب خان‘ یحییٰ خان‘ ذوالفقار علی بھٹو‘ جنرل ضیاء الحق‘ غلام اسحاق خان‘ نواز شریف‘ لغاری‘ بینظیربھٹو‘ پرویز مشرف‘ زرداری‘ عارف علوی سے لے کر عمران خان تک میں سے کون سا حکمران کس مدرسے کا فارغ التحصیل ’’مولوی‘‘ تھا؟
صرف یہی نہیں جن حکمرانوں کے میں نام نہیں لکھ سکا ان میں سے کوئی ’’مولوی‘‘ ہو تو بتایا جائے تاکہ میں بھی’’ملا‘‘ راج کی مذمت کر سکوں؟ اگر ایک بھی نہیں تو پھر وزیر سائنس کو مان لینا چاہیے کہ ’’شعور‘‘ اقتدار کی بارگاہوں میں نہیں بلکہ آسمانی علوم پڑھانے والی درسگاہوں کی چٹائیوں پر بیٹھ کر حاصل ہوتا ہے…انسان کو ’’شعور‘‘ عطا کرنے والی سب سے اعلیٰ‘ افضل اور مقدس کتاب قرآن مقدس ہے‘ احادیث رسولﷺ کا انمول علمی خزانہ قرآن کی تشریح کرکے انسانوں کو ہدایت کا راستہ دکھاتا ہے اور بلامبالغہ قرآن و حدیث کا یہ انمول خزانہ ’’مولوی‘‘ کے پاس ہے‘ علماء کو انبیاء کا وارث کسی سیاست دان یا حکمران نے نہیں خود خاتم الابنیاءﷺ نے قرار دیا ہے‘ جونبی کریمﷺ کے علم کا وارث ہے…آپؐ کے مصلے کا وارث ہے‘ ساری دنیا کی ’’سائنس‘‘ اس کے قدموں کی دھول کا مقابلہ بھی نہیں کر سکتی‘ میں مانتا ہوں کہ علماء کرام میں بھی غلطیاں موجود ہیں‘ تسلیم کہ ’’مولویوں‘‘ میں بھی اب ’’مادیت‘‘ سے پیار بڑھتا جارہا ہے‘ لیکن ان سب کے باوجود ’’شعور‘‘ کو مولوی سے جدا کرنے کی کوشش کرنا پرلے درجے کی جہالت ہے‘ کیوں؟ اس لئے کہ ’’شعور‘‘ عطا کرنے والا کلام اللہ مولویوں کے سینوں میں محفوظ ہے…ذہنی پاکیزگی‘ روشن خیالی‘ تزکیہ نفس اور ’’شعور‘‘ حاصل کرنے کے لئے نہ بیکن ہائوس‘ نہ ایچی سن اور نہ آکسفورڈ کی ضرورت ہے‘ بلکہ یہ تو جہالت کی وہ فیکٹریاں ہیں کہ جہاں سے نکلنے والوں نے ملکی خزانوں پر ہی نہیں بلکہ آئین پر بھی ڈاکہ ڈالنے کی کوششیں کیں۔
قرآن مقدس روشن تعلیمات‘ روشن خیالی اور تزکیہ نفس کا اصل منبع اور سرچشمہ ہے‘ وزیر سائنس کو ’’سائنس‘‘ تو خوب آتی ہوگی؟ انہیں چاہیے کہ وہ کسی چینل پر آکر سورہ یٰسین‘ سورۃ الملک‘ سورت مزمل‘ چلیں یہ نہ سہی‘ سورہ اخلاص‘ سورۃ العصر یا سورۃ الکوثر ہی تجوید اور ترتیل کے ساتھ سنا دیں تاکہ عوام جان سکیں کہ عمران خان کی حکومت میں روحانیت سے بھرپور کس قسم کے سپر ’’سائنسدان‘‘ پائے جاتے ہیں؟ رہ گئی بات کہ چاند دیکھنے پر چالیس لاکھ خرچ کرنا کہاں کی عقلمندی ہے؟ علماء کو یہ کام تو مفت کرنا چاہیے؟
مجھے نہیں پتہ کہ چاند دیکھنے پر خرچ ہونے والے چالیس لاکھ میں سے مفتی منیب الرحمن سمیت کون کون سے علماء پیسے لیتے ہیں؟ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر مولوی حضرات چاند دیکھنے کے پیسے لیتے ہیں تو کیا وہ حکومت سے زور زبردستی یہ پیسے لیتے ہیں؟ کیا رویت ہلال کمیٹی گورنمنٹ آف پاکستان کی قائم کردہ نہیں ہے؟ کیا چاند دیکھنا کوئی معمولی کام ہے؟ چاند سے 21کروڑ مسلمانوں کی خوشیاں اور عبادات وابستہ ہیں… اگر ’’گورنمنٹ‘‘ رویت ہلال کمیٹی کے اجلاسوں کے اخراجات برداشت کرتی ہے تو اس سے ’’سائنس‘‘ کے پیٹ میں مروڑ کیوں اٹھتے ہیں؟
کوئی بتا سکتا ہے کہ جب قوم مہنگائی کی چکی میں پس رہی تھی تو تحریک انصاف کی پنجاب حکومت نے اراکین اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافہ کیوں کیا؟
فواد چوہدری پہلے وفاقی وزیر اطلاعات بنے اور آج کل وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ہیں کیا وہ یہ خدمات مفت فراہم کر رہے ہیں؟ کیا وہ قومی خزانے سے بھاری بھر کم تنخواہ پروٹوکول‘ گاڑیوں کا پٹرول‘ ڈیزل اور دیگر بے پناہ مراعات نہیں لیتے؟
پس ثابت ہوگیا کہ مسئلہ چاند کا یا سائنس کا نہیں ہے …بلکہ اصل مسئلہ ہے سیکولر لادینیت کی کوکھ سے برآمد ہونے والے ان شدت پسندوں کا‘ کہ جن کے دماغوں میں ’’مولوی‘‘ کی نفرت گھسی ہوئی ہے‘ لنڈے کے لبرلز اور سیکولر شدت پسند نہ کسی مولوی کو اسمبلی میں دیکھنا چاہتے ہیں اور نہ ہی رویت ہلال کمیٹی میں‘ آسمان کا ’’چاند‘‘ دیکھنے کے لئے رویت ہلال کمیٹی کے اجلاس پر چالیس لاکھ خرچ ہوں تو وفاقی وزیر سائنس اس پر تو سوالات اٹھائیں‘ جوکہ بالکل درست اور ان کا حق ہے‘ اظہار رائے کی آزادی کے اسی حق کو استعمال کرتے ہوئے کچھ سوالات عوام بھی فواد چوہدری سے پوچھ رہے ہیں اور وہ یہ کہ جب پرویز مشرف اور بلاول زرداری ان کے ’’چاند‘‘ ہوا کرتے تھے…کیا انہیں دیکھنے کا فریضہ وہ بلامعاوضہ سرانجام دیا کرتے تھے؟
مفتی منیب ہوں یا مفتی شہاب پوپلزئی چاند کے معاملے میں ان کے درمیان اختلاف ایک سنجیدہ مسئلہ ہے…اس مسئلے کو افہام و تفہیم سے حل کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے‘ لیکن اگر حکومتی وزراء ’’چالیس لاکھ‘‘ کے طعنے دیکر مولویوں کی پگڑیاں اچھالنے کی کوشش کریں گے تو اس سے لنڈے کے لبرلز تو خوش ہوں گے‘ مگر عوام میں تفریق بڑھے گی۔
میرا نہ کبھی مفتی منیب سے کوئی ذاتی تعلق رہا اور نہ ہی مفتی پوپلزئی سے‘ لیکن میں انہیں انتہائی قابل احترام سمجھتا ہوں‘ ٹی وی چینلز کے سٹوڈیوز میں عدالتیں لگا کر ان علماء کا موقف جانے بغیر ان کی پگڑیاں اچھالنے کی کوششیں کرنے والے ’’ارسطو‘‘ یاد رکھیں کہ تمہاری ستمگرانہ تنقید سے انہیں تو کوئی فرق نہیں پڑے گا‘ لیکن اگر ان علماء نے تمہارے کرتوتوں کے خلاف فتویٰ کا موثر ہتھیار استعمال کیا تو پھر تمہاری چیخیں پورا ملک سنے گا۔(وما توفیقی الاباللہ)
(جاری ہے)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں