65

ساہیوال آرٹس کونسل خطے کی ثقافت،تہذیب و تمد ن اور روایات کے فروغ کا اہم ذریعہ ہے جس نے اس مردم خیز خطے کو دنیا بھر میں متعارف کروایا ہے ،رہنما رائے مرتضی اقبال خاں

ساہیوال (مہر ریاض احمد سے)
ساہیوال آرٹس کونسل خطے کی ثقافت،تہذیب و تمد ن اور روایات کے فروغ کا اہم ذریعہ ہے جس نے اس مردم خیز خطے کو دنیا بھر میں متعارف کروایا ہے – موجودہ حکومت پاکستانی ادب و ثقافت کے ذریعے معاشرے میں رواداری اور بھائی چارے کے فروغ میں گہری دلچسپی رکھتی ہے اور ثقافتی اداروں کی اہمیت و افادیت پر خصوصی توجہ دے رہی ہے – یہ بات رہنما تحریک انصاف ممبر قومی اسمبلی رائے مرتضی اقبال خاں نے ساہیوال آرٹس کونسل کے دورے کے دوران کہی۔ انہوں نے شہدائے پاک فوج کی حوالے سے تصویری نمائش کو دیکھتے ہوئے ،شہدا کی عظیم قربانیوں کو سلام عقیدت پیش کیا۔اس موقع پر ڈائریکٹر آرٹس کونسل ڈاکٹر ریاض ہمدانی نے انہیں کونسل کی پانچ سالہ کارکردگی اور ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی – معروف ادبی دانشور پروفیسر منیر ابن رزمی اوراسسٹنٹ ڈائریکٹر وسیم اکرم بھی اس موقع پر موجود تھے۔ رائے مرتضی اقبال خاں نے ساہیوال آرٹس کی ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کو سراہا اور ہدایت کی کہ دور دراز علاقوں میں موجود مختلف شعبوں میں ٹیلنٹ کو سامنے لانے میں آرٹس کونسل اپنا بنیادی کردار ادا کرے تا کہ ایسے فنکار وں کی حوصلہ افزائی ہو سکے جو محدود وسائل کی وجہ سے اپنے فن کا اظہار نہیں کر پا رہے ۔ ممبر قومی اسمبلی نے مزید ہدایات دیتے ہوئے ساہیوال آرٹس کونسل کو چیچہ وطنی میں قومی سطح کی ادبی کانفرنس منعقد کرنے کا کہا۔ ڈائریکٹر ساہیوال آرٹس کونسل ڈاکٹر ریاض ہمدانی نے ممبر قومی اسمبلی رائے مرتضی اقبال کو کونسل کی اپ گریڈیشن کے لئے جاری ترقیاتی پروگرام کے بارے میں بھی بریفنگ دی اور بتایا کہ پنجاب حکومت 8کروڑ روپے کی خطیر رقم سے ساہیوال آرٹس کونسل میں تمام ضروری سہولیات کی فراہمی کو ممکن بنا رہی ہے جس سے ساہیوال ڈویژن کے باصلاحیت نوجوانوں کی آرٹ سے متعلقہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں معاونت ملے گی اور آرٹس کے مختلف شعبوں میں موجود ٹیلنٹ کی حوصلہ افزائی بھی ہو گی – اس موقع پر ممبر قومی اسمبلی رائے مرتضی اقبال نے ڈائریکٹر آرٹس کونسل کو اپنے خاندانی پس منظر کے حوالے سے کتاب بعنوان ” رائے کوٹ اور میری کہانی ” دی جبکہ منتظم آرٹس کونسل نے انہیں کونسل کے زیراہتمام ہونے والی ادبی و ثقافتی کانفرنس میں پڑھے گئے مقالات پر مبنی کتاب کے علاوہ خطاطی کا فن پارہ پیش کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں