78

مزدور کی کم از کم تنخواہ 30 ہزار مقرر کی جائے۔ شمس الرحمٰن سواتی

Spread the love

اسلام آباد ( شاہدمحمود) نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کے مر کزی صدر شمس الر حمن سواتی نے کہا ہے کہ آئندہ بجٹ میں غیر ہنر مند مزدورں کی کم از کم تنخواہ تیس ہزار روپے اور پنشن اور بڑھا پا الاؤنس پندرہ ہزار روپے مقرر کیا جا ئے ،مہنگائی میں دیے جا نے والے ایڈہاک الاؤ نسس کو بنیادی تنخواہ میں ضم کر کے مہنگائی کے تناسب سے تنخواہوں میں اضا فہ کیا جا ئے ،انھوں نے کہا غیر ترقیاتی اخر جا ت ختم کیے جا ئیں ، ٹیکس چوروں اور ٹیکس پو ٹینشل لو گوں کو ٹیکس نیٹ میں لا یا جا ئے تو اس کے نتیجے میں سالانہ 8سے 10ہزار ارب روپے ٹیکس وصول کیا جا سکتا ہے انھوں نے کہا 6کروڑ 55لاکھ غیر منظم مزدور جو کھیت ، منڈی ، فشریز، بھٹے اور کانوں میں کام کر تے ہیں یہ بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم ہیں جو کہ ملک میں مزدوروں کا 82فیصد ہے اس سیکٹر کے لیے سوشل سیکیورٹی اور انھیں بحیثیت مزدور رجسٹرڈکیا جا ئے اور ان کی کم از کم تنخواہ کا تعین ،انھیں تنظیم سازی ، EOBIاور ورکر ویلفیئر فنڈ کے دائرہ کا ر میں لایا جا ئے ۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے اسلام آباد میں پر یس کانفر نس سے خطاب کر تے ہو ئے کیا ۔اس موقع پر آئیسکو لیبر یو نٹی کے صدر راجہ عاشق خان ، این ایل ایف اسلام آباد کے صدر ڈاکٹر تہذیب الحسن اور دیگرمزدور یو نینز کے نمائندے بھی بھی مو جو د تھے ۔شمس الرحمن سواتی نے کہا حکو مت بجٹ بناتے وقت حسب سابق مرا عات یافتہ طبقے سے مشاورت کی بجا ئے مزدورطبقے سے تجاویز لے کیو نکہ ہمیشہ بجٹ غر یب عوام اور مزدور طبقے پر بجلی بن کر گر تا ہے ، مہنگائی بے روزگاری اور آئے روز قیمتو ں میں اضا فے نے مزودر طبقے سے جینے کا حق چھین لیا ہے انھوں نے کہا ڈاکٹر محبوب الحق فارمو لے کے مطابق خود کار نظام اپنایا جا ئے جس شر ح سے مہنگائی میں اضا فہ ہو اس شر ح سے از خود تنخواہوں میں اضا فہ ہو جا ئے ،ایک کڑور ملازمتیں ،پچاس لاکھ گھر وں کا نعرہ محض ایک سراب دکھائی دے رہا ہے ،حکو مت ٹیکس نیٹ بڑھا نے کی بجا ئے ماضی کی طر ح ٹیکسوں کا بو جھ GST کی شکل میں براہ راست عوام پر لگا رہے ہیں ،انھوں نے کہا یومیہ اُجرت اور ٹھیکداری نظام کو تحفظ دے کر بیگار کیمپوں کی حو صلہ افزائی کی گئی جو کہ دستور پاکستان کے مطابق بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے EOBIاور ورکر ویلفیئر فنڈ میں ہو نے والی کر پشن کے ذمہ داروں کا کڑا احتساب کیا جا ئے انھوں نے کہا اضلا ع میں قائم لیبر ویلفیئر کے اہلکاروں کو بھتہ خوری کی لت پڑی ہو ئی ہے ہزاروں صنعتی ادروں اور کروڑوں مزدوروں کو رجسٹرڈ نہیں کیا گیا۔ شمس الرحمن سواتی نے کہا سیاسی مداخلت اور افسر شاہی کے کر توتوں اور کر پشن کے باعث اداروں کو تباہ کر دیا جا تا ہے اور ان کا احتساب کر نے کی بجا ئے ادارے کی نجکاری کر کے اس کی سزاء ملازمین کو دی جا تی ہے ہمارا مطالبہ ہے کہ نجکاری کی بجا ئے اداروں میں باصلا حیت ،دیانت دار افرد کو تعینات کیا جا ئے ،انھوں نے کہاہم ملک بھرکے پسے ہو ئے طبقات کی نمائندہ ایسوسی ایشنوں اور انجمنوں سے مطالبہ کر تے ہیں کہ وہ متحد ہو مزدورں کے مسائل کے حل اور نظام کی تبدیلی کے لیے جدوجہد کے لیے تیار ہو جا ئیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں