96

حکومت اسلام مخالف، بے ہودہ،غیر مہذب عورت مارچ پر فی الفور پابندی لگاۓ۔علماءکرام کا مطالبہ

اسلام آباد(شاہدمحمود)جڑواں شہروں کے مختلف جماعتوں سے وابستہ علماء کرام ،دینی مدارس کے ذمے داران نے مطالبہ کیاہے کہ8مارچ کوفحاشی پر مبنی عورت مارچ اورمظاہرے کوفوری طورپرروکاجائے،اوراعلان کیاہے کہ اتوارکوعالمی یوم خواتین کے موقع پرنیشنل پریس کلب کے سامنے پرامن ،،حیامارچ،، کریں گے ھم بے حیائی کو پروان نہیں چڑھنے دیں گے،مساجدمیں حیااورخواتین کے حقوق پرمبنی خطبات کااہتمام کیاجائے گااوراگاہی مہم چلائی جائے گی عوام کوبتائاجائے گاکہ اس عورت مارچ کے پیچھے بین الاقوامی ایجنڈہ ہے ان خیالات کااظہارعلماء کرام نے جامع مسجد خلفاء راشدین جی نائن ٹومیں اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ھوئے کیا..
اجلاس ممتاز روحانی شخصیت مولاناپیر عزیزالرحمن ھزاروی کی زیر صدارت منعقدھوا، اجلاس میں،مذہبی اسکالر مفتی مجیب الرحمن،مدرسہ معارف القرآن کے مہتمم مولانا نذیر احمد فاروقی تحریک اتحاد امت کے چئیرمین،مولانا چراغ الدین شاہ،مرکزی جمعیت اہل حدیث کے امیرحافظ مقصود،جمعیت علماء اسلام کے امیرمولانا عبدالمجید ہزاروی،صدراھل سنت والجماعت حافظ نصیر احمد، مہتمم جامعہ دارالہدی مفتی عبدالسلام، جامعہ فریدیہ کےمولانا عبدالغفار ،وفاق المدارس کے مسئول مولانا ظہور احمد علوی،سنی رابطہ کونسل کے مولانا عبدالرحمن معاویہ،جے یوآئی کے سینئرنائب امیرمفتی اویس عزیز،عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سیکرٹری جنرل مولانا عبدالوحید قاسمی، صدرسنی رابطہ کونسل راولپنڈی مفتی تنویر عالم مولاناممتازالحق صدیقی ،مولاناعبدالزاق حیدری ،جے یوآئی کے سیکرٹری جنرل مفتی عبداللہ ،قاری عبدالکریم ،مولاناحسن فاروقی ودیگرجید علماء مشائخ، سول سوسائٹی کے نمائدوں نے شرکت کی۔اجلاس میں حکومت کی جانب سے عورت مارچ کی اجازت دینے کی بھر ہور مذمت کرتے ہوئے قراردا ہیش کی جسے منطور کرلیا گیاتمام مکاتب فکر کے علماۓ کرام،سول سوسائٹی کے ذمہ داران نے مزید کہا کہ حکومت پاکستان اسلام مخالف چلنے والی غیر ملکی این جی اوز پر کڑی نظر رکھے اور انکی فنڈنگ کو روکتے ہوۓ ان پر پابندی لگاۓ۔غیر ملکی این جی اوز دراصل اسلامی اقدار،اسلام شعائر،کو نقصان پہنچانے اور ملک پاکستان و نوجوان نسل کو الحاد،لادینیت اور فحاشی کی طرف لے جانے کے منصوبے پر عمل پیرا ہیں اور عورت مارچ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جو کہ ملک اور نوجوان نسل میں بے حیائی، فحاشی،اور لادینیت پھیلا رہی ہے۔تمام مکاتب فکر کے علماۓ کرام، سول سوسائٹی کے ذمہ داران نے حکومت و ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 8 مارچ 2020 کو ہونے والے خلاف اسلام،خلاف آئین و قانون و نظریہ پاکستان، بےہودہ،غیر مہذب عورت مارچ پر فی الفور پابندی لگاۓ وگرنہ حالات کی ذمہ داری حکومت و ضلعی انتظامیہ پر ہوگی۔
علماء کرام و سول سوسائٹی کے ذمہ داران نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ 8 مارچ بروز اتوار کو دن دو بجے نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے حیاء مارچ کریں گے۔جس میں مرد حضرات و باپردہ خواتین بھی شریک ہوں گی۔تانکہ قرآن و سنت نے جو عورت کومقام اور حقوق دیۓ ہیں ان سے نوجوان نسل کو روشنائی حاصل ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں