127

ساہیوال میں کیا جانیوالا سی ٹی ڈی کا آپریشن بے نقاب، اچانک ایسی خبر آگئی جان کر آپ بھی حیریت کے مارےانگلیاں منہ میں دبالینگے

Spread the love
  • 21
    Shares

اسلام آباد(نیو زڈیسک) سانحہ ساہیوال میں سی ٹی ڈی کا آپریشن بے نقاب ہو گیا۔ تفصیلات کے مطابق ذیشان کی گاڑی ، پولیس موبائل اور سی ٹی ڈی اہلکاروں کا اسلحہ فرانزک لیبارٹرک بھجوایا گیا تھا۔ لیکن سی ٹی ڈی کی جانب سے فرانزک لیبارٹری کو دھوکہ دینے کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق اہلکاروں کے زیر استعمال اسلحہ اور پولیس موبائل بدل کر دی گئیں۔دی گئی پولیس موبائل کو کھڑی کر کےگولیوں 

کا نشانہ بنا کر فائرنگ کا تبادلہ بتایا گیا۔ اہلکاروں کے زیر استعمال اسلحہ بھی بدل کر دیا گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ ذیشان کی گاڑی کو صرف ایک سے ڈیڑھ فُٹ کے فاصلے سے گولیوں کا نشانہ بنایا گیا،جائے وقوعہ سے 100 کے قریب گولیوں کے خول ملے ہیں۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ فوٹو گرامیٹری کا نتیجہ نہیں آ سکا۔چہروں پر نقاب اور پیچھے سے بننے والی فوٹیج بھی ٹیسٹ نہیں ہو سکی۔ فرانزک سائنس ایجنسی کے ذرائع نے بتایا کہ کہ لیبارٹری کو جانچ کے لیے 100 سے زائد گولیوں کے خول، 4 سب مشین گنیں اور دو نائن ایم ایم پستول بھیجے گئے تھے تاہم یہ خول فراہم کی گئی سب مشین گن اور پستول کے نہیں تھے۔ جبکہ نائن ایم ایم کا کوئی خول یا گولی نہیں بھجوائی گئی، اس لیے نائن ایم ایم کے دو پستول فرانزک کے لیے فراہم کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ذرائع کے مطابق ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پولیس موبائل پر لگنے والی چار گولیاں بھی خود سی ٹی ڈی اہلکاروں نے ہی چلائی تھیں۔ اور تو اور پولیس موبائل کو فرانزک ٹیسٹ کے لیے ٹرک میں لوڈ کر کے پنجاب فرانزک لیب بھجوایا گیا جبکہ سانحہ ساہیوال کے دن پولیس موبائل کو چلا کر جائے وقوعہ سے واپس لے جایا گیا تھا۔ سی ٹی ڈی کے دعوے کے مطابق جوابی فائرنگ کے نتیجے میں پولیس موبائل کا فیول سسٹم اُڑ گیا تھا ، اگر ایسا ہوا تھا تو پھر گاڑی کو چلا کر جائے وقوعہ سے واپس کیسے لے جایا گیا ؟ سی ٹی ڈی اہلکاروں نے دعویٰ کیا تھا کہ ذیشان کی چلتی ہوئی گاڑی پر فائرنگ کی لیکن فرانزک لیبارٹری ذرائع کے مطابق ذیشان کی گاڑی کو ایک ہی زاویے سے چار گولیاں ماری گئیں، جو چلتی ہوئی گاڑی میں لگنا نا ممکن ہے۔فرانزک لیبارٹری کے ان انکشافات کے بعد سانحہ ساہیوال مزید مشکوک ہو گیا ہے جبکہ اس میں پولیس کے کردار پر بھی شک مزید بڑھ گیا ہے۔یاد رہے کہ گذشتہ ماہ 19 جنوری کی سہہ پہر پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی نے ساہیوال کے قریب جی ٹی روڈ پر ایک مشکوک مقابلے کے دوران گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کردی تھی، جس کے نتیجے میں ایک عام شہری خلیل، اس کی اہلیہ نبیلہ اور 13 سالہ بیٹی اریبہ اور گاڑی چلانے والا ڈرائیور ذیشان جاں بحق ہوئے تھے۔ اور تین بچے زخمی ہوئے جبکہ سی ٹی ڈی کی جانب سے 3 مبینہ دہشت گردوں کے فرار ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔ سانحہ ساہیوال پر سی ٹی ڈی اہلکاروں کے بدلتے ہوئے بیانات نے معاملے کو مشکوک بنایا تھا جس کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دی گئی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں