39

ساہیوال میں ڈکیتی وچوری کی وارداتوں میں خطرناک حدتک اضافہ۔شہری دن دیہاڑے لٹ رہے ہیں۔

ساہیوال(بیورورپورٹ)
ساہیوال میں ڈکیتی وچوری کی وارداتوں میں خطرناک حدتک اضافہ،گزشتہ دنوں متعدد وارداتوں میں شہری قیمتی اشیاء سے محروم،شہری دن دیہاڑے لٹ رہے ہیں،پولیس خاموش تماشائی کا کرداراداکررہی ہے۔ضلع ساہیوال میں گزشتہ دنوں متعددوارداتیں ہوئیں جبکہ پولیس نے صرف 50 مقدمات درج کئے جوکہ وارداتوں کا 25فیصد ہیں اور75فیصدکے قریب شہری بے یارومددگاراپنی درخواستیں لئے تھانوں اورپولیس افسران کے دفاترکے چکرلگانے پر مجبورہیں۔ایک محتاط اندازے کے مطابق گزشتہ سال کی نسبت امسال ابتک وارداتوں میں چارگنا اضافہ دیکھنے میں آیاہے جوکہ پولیس کی کارکردگی پرایک سوالیہ نشان ہے۔ساہیوال میں بڑھتی ہوئی ڈکیتی وچوری،راہزنی،قتل،اغواء،زناء بالجبر،جواء پرچی،جسم فروشی،منشیات فروشی سمیت دیگرجرائم کی وارداتوں پر سیاسی وسماجی اورمذہبی جماعتیں سراپااحتجاج ہیں۔مختلف تنظیموں نے صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے مصروف چوکوں میں وارداتوں بارے بینئرزبھی آویزاں کررکھے ہیں۔یہ ساہیوال کی تاریخ میں پہلاموقع ہے کہ مختلف مکاتب فکرپولیس کی نااہلی کیخلاف احتجاجی ریلیاں،ویڈیواوراخباری بیانات جاری کررہے ہیں۔عوام نے شہر کو فوج اوررینجرکے حوالے کرنے کا مطالبہ بھی کیاتھاجس پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔دن دیہاڑے ڈکیتیوں اوراغواء برائے تاوان کی وارداتوں سے دلبرداشتہ شہری خصوصاََ تاجربرادری نقل مکانی کے امکان پر سنجیدگی سے غورکررہی ہے۔امن ومان کی مخدوش صورتحال کے پیش نظرلوگ گھروں میں بیٹھ گئے ہیں۔عدم تحفظ نے سکیورٹی گارڈاورسی سی ٹی وی کیمرے کے کاروبارکوچارچاند لگادیئے ہیں۔ریاست کی رٹ کہیں دکھائی نہیں دے رہی جبکہ جرائم پیشہ افراد گروہوں کی شکل میں ہرجگہ دنداناتے پھررہے ہیں۔سرحدکے محافظ کی دوبیٹیوں کو اغواء ہوئے دوماہ سے زائد کاعرصہ گزرچکاہے لیکن ڈی پی اوکے حکم کے باوجود اس کامقدمہ درج نہیں کیاگیا۔جرائم پیشہ عناصرکی نشاندہی کرنے والے شہری کوتھانہ کے قریب قتل کردیاگیااورپولیس نے نامزدملزم کو بے گناہ قراردیکرچھوڑدیا،ورثاء نے ڈی پی اوآفس کے سامنے احتجاج کیاکوئی شنوائی نہ ہوئی توساہیوال پریس کلب کے سامنے احتجاج کیاگیالیکن کسی بھی اعلیٰ افسرنے کوئی نوٹس نہ لیا۔صدمے کی تاب نہ لاتے ہوئے پولیس کے رویہ سے نالاں مقتول محمدخاں کے والداوروالدہ بھی اسی روز دم توڑگئے۔اہل علاقہ سراپااحتجاج ہیں اورپولیس خاموش تماشائی۔پولیس ترجمان سے موقف بارے رابطہ کیاگیا جس پر انہوں نے نہ کال اٹینڈ کی اورنہ ہی بھیجے گئے مسیج کا جواب دیا۔عوامی سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سردارعثمان بزداراورآئی جی پولیس پنجاب شعیب دستگیرسے نوٹس لینے کا مطالبہ کیاہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں