100

جماعتِ اسلامی اسلام آباد کے زیرِ اہتمام یوم یکجہتی کشمیر ریلی،سینکڑوں افراد کی شرکت

Spread the love
  • 2
    Shares

اسلام آباد(شاہدمحمود) نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان وسابق ممبر قومی اسمبلی میاں محمد اسلم نے کہا ہے کہ حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے عملی اقدامات کرے، کرتارپور راہداری کھولنے سے کشمیر آزاد نہیں ہوگا، حکومت مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کیلئے نائب وزیر خارجہ تعینات کرئے اور پاکستان کے تمام سفارتخانوں میں کشمیر ڈیسک بنائیں جائیں۔ ہر دور میں حکمرانوں نے کشمیریوں کو مایوس کیا ہے ، پاکستانی عوام کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں،کشمیریوں کی شہادتوں نے تحریک آزادی کو زندہ رکھا ہوا ہے،بھارت کو بھی جلد کشمیر سے نکلنا پڑے گا ۔انھوں نے کہا حیرت کی بات ہے پاکستان سلامتی کو نسل کا کئی دفعہ ممبر رہ چکا ہے مگر انھوں نے کبھی بھی سلامتی کونسل میں کشمیر کا مسئلہ نہیں اُٹھا یا ۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے اسلام آباد میں یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے بڑی ریلی کے شر کاء سے خطاب کر تے ہو ئے کیا ۔اس موقع پر ، امیر جماعت اسلامی شمالی پنجاب ڈاکٹرطارق سلیم، جماعت اسلامی آزاد کشمیر کے مرکزی رہنما راجہ جہانگیر،امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نصر اللہ رندھاوا، امیر جماعت اسلامی راولپنڈی سید عارف شیرازی، نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کے مر کزی صدر شمس الرحمن سواتی،، اآل پاکستان تا جر اتحاد کے صدر کاشف چوہدری،رضا احمد شاہ اور دیگر نے خطاب کیا ۔یکجہتی کشمیر ریلی میں بری تعداد میں خواتین اور بچوں نے شرکت کی۔ ریلی کے شر کاء نے بینر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر آزادی کے حق میں اور بھارت کے ریاستی دہشت گردی کیخلاف نعرے درج تھے۔
میاں محمداسلم نے کہاکہ کشمیر پاکستان کا حصہ ہے، پاکستان اور کشمیر ایک جسم کے مانند ہیں، جب کشمیریوں کے جسم پر زخم پڑتا ہے تو وہ پاکستانیوں کے دل پر پڑتاہے، مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے ایک لاکھ سے زائد کشمیریوں کو شہید کیا ہے، 8لاکھ فوج ہونے کے باوجود بھارت کشمیر کو فتح نہیں کرسکا، آج بھی کشمیری فوجی آپریشن کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاتے ہیں، گورنر راج کے بعد اب صدر راج بھی مقبوضہ کشمیر میں فیل ہوگیا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا استقبال ہڑتالوں سے کیا گیا، آج کشمیر کی بہنیں پاکستان سے سوال کرتی ہیں کہ سندھ کی بیٹی کیلئے تو محمد بن قاسم آگیا تھا پاکستان کب محمد بن قاسم کا کردار ادا کرے گا۔حکمرانوں نے ہمیشہ مایوس کیا ہے، کرتارپور راہداری کھولنے سے کشمیر آزاد نہیں ہوگا، حکومت کو سنجیدگی سے کشمیر کا مقدمہ لڑنا ہوگا اور اس کیلئے ضروری ہے کہ فوری طورپر نائب وزیر خارجہ تعینات کیا جائے جو مسئلہ کشمیر پر لابنگ کریں اس کے ساتھ بیرون ملک تمام سفارتخانوں میں کشمیر ڈیسک بنایا جائے۔
امیر جماعت اسلامی صو بہ پنجاب شمالی ڈاکٹرطارق سلیم نے کہاکہ کشمیریوں کی شہادتوں نے تحریک آزادی کو زندہ رکھا ہوا ہے، کشمیر ہمارا ہے اور پاکستان تمہارا ہے، روس کو افغانستان میں عبرتناک شکست ہوئی اور اب امریکہ بھی شکست سے دوچار ہے، بھارت کو بھی جلد کشمیر سے نکلنا پڑے گا کشمیریوں کی ہر طرح کی مدد جاری رکھیں گے ،حکمرانوں کو بھی اپنا کردارادا کرنا ہوگا،
راجہ جہانگیر نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہم مجاہدین کو سلام پیش کرتے ہیں کہ جنہوں نے ہماری تحریک کو زندہ رکھا ہوا ہے، ہماری بزرگ حریت قیادت نے تحریک کو مضبوط کیا ہے، کشمیری قربانیاں دے رہے ہیں مگر بیس کیمپ کی طرف سے عملی اقدامات نہیں ہورہے، حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ تحریک کو مضبوط کرنے کیلئے اپنا کردارادا کریں، قاضی حسین احمد نے جس طرح تحریک شروع کی اس تحریک کو آگے لے جانے کی ضرورت ہے اور اس میں حکومت کو اپنا کردارادا کرنا ہوگا۔
نصر اللہ رندھاوا نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بھارت کے قبضے کو 70 سال ہوگئے ہیں مگر جدوجہد آزادی ابھی بھی جاری ہے، پاکستان کی شہ رگ بھارت کے قبضے میں ہے اور شہ رگ کو آزاد کرنے کیلئے پارلیمنٹ، افواج پاکستان اور عوام کو اپنا کردارادا کرنا ہوگا یہ ان پر فرض بھی ہے اور قرض بھی ہے۔ کشمیر سے آنے والے دریاؤں کے اندر کشمیریوں کا خون بھی شامل ہے، ہم کشمیریوں کی ہر طرح کی مدد کرینگے۔شمس الرحمن سواتی نے کہا کہ جس طرح قاضی حسین احمد نے قوم کو کشمیریوں کی پشت پر کھڑا کیا تھا وہ آج تک کوئی حکمران نہ کرسکا، عوام کے حقوق اور کشمیریوں کی آزادی کیلئے اسلامی انقلاب کی اشد ضرورت ہے، انگریز کے ایجنٹوں کو ووٹ دینے کی وجہ سے مسئلہ کشمیر آج تک حل نہ ہوسکا۔کاشف چوہدری نے کہاکہ آج دنیا بھر میں یوم یکجہتی کشمیر منایا جارہا ہے ،پاکستانی حکمرانوں نے کشمیر کیلئے کچھ نہیں کیا ، مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے قومی کشمیر پالیسی بنائی جائے ، پاکستانی قوم کشمیریوں کے پیچھے کھڑی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں